0
Sunday 10 Nov 2019 09:36
سیرت طیبہ سے ہٹ جانے کی وجہ سے ہمارا ہر اگلا دن بربادی اور تباہی کی طرف جا رہا ہے

مقصد حیات کے حصول کیلئے سیرت النبی سے رشتہ بحال کرنا ہوگا، طاہرالقادری

پاک سیرت ؐ کا ہر لمحہ اور ہر گوشہ آج بھی ہمارے سامنے موجود ہے
مقصد حیات کے حصول کیلئے سیرت النبی سے رشتہ بحال کرنا ہوگا، طاہرالقادری
اسلام ٹائمز۔ قائد تحریک منہاج القرآن ڈاکٹر طاہرالقادری نے مینارپاکستان پر ولادت جشن مصطفی(ص) کے موقع پر منعقدہ 36ویں عالمی میلاد کانفرنس سے ”قرآن اور ادب مصطفی(ص)“ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیرت طیبہ سے ہٹ جانے کی وجہ سے ہمارا ہر اگلا دن بربادی اور تباہی کی طرف جا رہا ہے، عزت و آبرو کا پیمانہ دولت اور مکرو فریب جیسی منفی صلاحتیں بن چکی ہیں، خیر کی جگہ شر نے لے لی ہے، سیاست، معیشت، معاشرت، حکومت، ثقافت ہر جگہ جھوٹ کی تجارت ہو رہی ہے، امت کو عہد رفتہ کی شان و شوکت کی بحالی کیلئے تعلیم و ٹیکنالوجی میں آگے اور اخلاق و روحانیت کیلئے پیچھے جانا ہو گا، جدید اور قدیم اقدار کا یہی علم و عمل کا امتزاج نسخہ کیمیا ہے۔

مینار پاکستان گراونڈ میں منعقدہ عالمی کانفرنس میں ہزاروں کی تعداد میں بچوں، خواتین، بزرگوں، نوجوانوں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں ممتاز سیاسی، سماجی، اقلیتی رہنماؤں، حکومتی عمائدین شریک تھے۔ عالمی شہرت یافتہ قرأ حضرات اور منہاج نعت کونسل کے ثناء خوان مصطفی(ص) نے شان رسالت مآبؐ میں ہدیہ تبریک پیش کیا۔ ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، خرم نواز گنڈاپور، بریگیڈیئر(ر) اقبال احمد خان و دیگر مرکزی رہنماؤں نے شرکاء کانفرنس اور مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ عالمی کانفرنس کے اختتام پر ولادت مصطفیؐ کی خوشی میں شاندار آتشبازی کا مظاہرہ کیا گیا، آتش بازی سے فضاء بقعہ نور بن گئی، فضا میں کبوتر اور رنگ برنگے غبارے چھوڑے گئے، ہزاروں شرکاء فرط جذبات میں ایک دوسرے پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے رہے اور فضا آمد مصطفیؐ مرحبا مرحبا کے نعروں سے گونجتی رہی، ہزاروں شرکاء نے کھڑے ہو کر بارگاہ رسالت مآبؐ میں ہدیہ درود و سلام پیش کیا۔ یوتھ ونگ، ایم ایس ایم کے نوجوانوں نے پنڈال کی سکیورٹی کے فرائض انجام دئیے۔

مہمان مقررین نے ہر سال 12ربیع الاول کی شب عظیم الشان عالمی میلاد کانفرنس کے انعقاد اور ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے خطاب پر تحریک منہاج القرآن کو مبارکباد پیش کی۔ قائد تحریک منہاج القرآن ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے عالمی کانفرنس سے ویڈیو لنک پر خطاب کیا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضور نبی اکرم ؐ نے اپنی پیغمبرانہ زندگی کے محض 23سالوں بالخصوص مدنی زندگی کے 10سالوں میں کرہ ارض کا عظیم الشان تعلیمی، اخلاقی، روحانی، سماجی، سیاسی، معاشی، ثقافتی انقلاب برپا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس انقلاب کے نتیجے میں منتقم مزاج عرب معاشرہ کے وہ افراد جو ایک دوسرے کی جان کے درپے رہتے تھے اس انقلاب کے بعد وہ ایک دوسرے کیلئے جان دینے والے اور مجسمہ مہر و وفاء بن گئے، وہ اس طرح ہو گئے جیسے وہ نئے انسان ہوں،آپ ؐ کی سیرت مبارکہ کے فیض سے عرب معاشرہ امن کا گہوارہ بن گیا، عصبیت، عداوت اور انتقام جیسی الائشیں ان سے جدا ہو گئیں۔

انہوں نے کہا کہ پاک سیرت ؐ کا ہر لمحہ اور ہر گوشہ آج بھی ہمارے سامنے موجود ہے، عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہم ذلت و رسوائی کے گڑھے میں گرے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیرت مصطفیؐ انسانیت کیلئے رواداری، تحمل و برداشت، اعتدال، شرم و حیاء، ایفائے عہد، اخلاق حسنہ، صلہ رحمی، اعلیٰ اخلاقی، روحانی اقدار کو اپنانے کا نام اور پیغام ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس یہ قدریں اور نبوی پیمانے ہم نے بدل دئیے۔ انہوں نے کہا کہ آپ (ص) نے دوستوں، دشمنوں کے درمیان تعلقات، امیر، غریب، پڑوسیوں، چھوٹوں، بڑوں کے درمیان رشتہ، ریاست اور فرد کے درمیان تعلقات اور برتاؤ کے معیار اور پیمانے دئیے، یہ پیمانے عدل، اخلاص اور شرم و حیاء پر مبنی تھے۔ ان تعلقات کا خاصہ اور مرکزیت ایثار اور رضائے الٰہی کا حصول تھا مگر یہ سب پیمانے ہم نے اپنی زندگیوں سے الگ کر دئیے، شرم و حیاء کی جگہ بے حیائی نے لے لی ہے، سچ کی جگہ جھوٹ، امانت و دیانت کی جگہ خیانت و بددیانتی، آخرت کی جگہ دنیا پرستی، بھلائی کی جگہ حرص و ہوس نے لے لی، ہم نبوی تعلیم کے برعکس چل رہے ہیں ظاہری و باطنی سکون کہاں سے آئے گا؟

انہوں نے کہا کہ ہم دلوں کا سکون اور مقصد حیات پانا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں سیرت طیبہ سے اپنے ٹوٹے ہوئے تعلق کو بحال کرنا ہو گا۔ ہمیں رسول اللہ ؐ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا ہو گا۔ سچائی کا دامن تھامنا ہو گا، حلال، حرام میں تمیز کرنا ہو گی، ظالم کے مقابلے میں مظلوم کا ساتھ دینا ہو گا، نفرت کو محبت سے بدلنا ہو گا، پاکیزگی، طہارت اختیار کرنا ہو گی، ہر قسم کی اخلاقی گراوٹ سے باہر نکلنا ہو گا، دوسروں کی خوشی کو اپنی خوشی اور راحت بنانا ہوگا، جب یہ پیمانے اور قدریں پوری طرح ہماری زندگیوں میں داخل ہو جائیں گی تو پھر اللہ کی نصرت بھی اترے گی اور نعمتوں کا نزول بھی شروع ہو جائے گا، ہم پستی اور زوال کے گڑھوں سے نکل آئیں گے اور معاشرہ سنور جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہر کلمہ گو سن لے دنیا و آخرت کی کامیابی ادب مصطفیؐ اور اطاعت مصطفیؐ میں ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے اپنے خطاب میں کہا کہ پیغمبرانہ مشن کی کامیابی کا پہلا مرحلہ ریاست مدینہ کی تشکیل، دوسرا مرحلہ فتح مکہ، تیسرا مرحلہ خطبہ حجتہ الوداع تھا، یہ اعزاز اور افتخار صرف آپ ؐ کو نصیب ہوا، آپ ؐ نے اپنی ظاہری حیات مبارکہ میں انسانیت کی فلاح و بقاء اور سیرت و کردار کی تعمیر کے الوہی مشن کو مکمل کیا۔

انہوں نے کہا کہ آپ(ص) نے تہذیب و شائستگی، ادب و احترام کی ایسی انقلابی روایات کی بنیاد رکھی جس میں طاقتور کمزوروں کے محافظ بن گئے اور مرد،خواتین کی عزت اور بوڑھے بچوں سے شفقت کرنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ حضور نبی اکرم (ص) پیغمبر امن و سلامتی بن کر مبعوث ہوئے، آپ کی نظریاتی، فکری، علمی، روحانی جدوجہد سے نہ صرف عرب کے جزیرے میں امن قائم ہوا بلکہ پوری نسل انسانیت کو سکون اور اطمینان میسر آیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست مدینہ کی بنیادیں عدل و انصاف کے اعلیٰ ترین معیار پر قائم تھیں اور نبوی حکمت سے اسلامی نظام حکومت کا قابل تقلید نمونہ بنی۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ 8جلدوں اور 5ہزار سے زائد موضوعات پر مشتمل قرآنک انسائیکلوپیڈیا کی تالیف کے بعد اللہ نے چاہا تو بہت جلد 40 جلدوں پر مشتمل احادیث مبارکہ کا انسائیکلوپیڈیا تشنگان علم اور خاص و عام کے مطالعہ کیلئے دستیاب ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی میراث علم اور صرف علم ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے عالمی میلاد کانفرنس کے ہزاروں شرکاء اور مہمانوں کو مبارکباد دی اور عالمی میلاد کانفرنس کی جملہ انتظامی کمیٹیوں کو بھی حسن انتظام پر شاباش دی۔
خبر کا کوڈ : 826568
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب