0
Tuesday 12 Nov 2019 14:48
معلومات کی چوری سے بچنے کیلئے

سرکاری اداروں کے مابین رابطوں کیلئے "گورنمنٹ ایپ" بنانے کا فیصلہ

نئی ایپلی کیشن کا سرور پاکستان کے پاس ہی ہوگا
سرکاری اداروں کے مابین رابطوں کیلئے "گورنمنٹ ایپ" بنانے کا فیصلہ
اسلام ٹائمز۔ دنیا بھر میں معروف مسیجنگ سروس واٹس ایپ کی طرز پہ حکومت پاکستان نے پیغام رسانی کے لئے اپنی ایپلی کیشن لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ سرکاری اداروں کے درمیان باہمی رابطے اور معلومات کے تبادلے کے لئے واٹس ایپ اور پیغام رسانی کی دیگر ایپلی کیشنز کی جگہ ''گورنمنٹ ایپ'' نامی ایپلی کیشنز تیار کی جائے گی۔ ''گورنمنٹ ایپ'' کو واٹس ایپ، فیس بک مسینجر اور وائبر جیسی پیغام رسانی کی دیگر ایپلی کیشنز کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جائے گا اور اس کا ڈیٹا سرور بھی حکومت پاکستان کے پاس ہوگا۔ یہ فیصلہ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ معلومات کی چوری اور ڈیٹا ہیک سے بچنے کے لئے حکومت پاکستان اپنی اپیلی کیشن تیار کرے گی۔

حکومت پاکستان کے اس فیصلے پر ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ باہمی رابطوں کی اپنی ایپلی کیشن بنانا پاکستان کی جانب سے غیر ملکی کمپنیوں پر انحصار کم کرنے کی جانب پہلا قدم ہے، کیونکہ ایک حکومت معلومات کی چوری جیسا نقصان کبھی بھی برداشت نہیں کرسکتی۔ ''گورنمنٹ ایپ'' سے شیئر ہونے والی تمام معلومات پر وفاقی حکومت کا کنٹرول ہوگا۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے حکومت کو کافی فائدہ ہوگا اور معلومات کی چوری کا امکان کم ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ حکومت اس ایپلی کیشن کا استعمال کرنے والوں کو باقاعدہ طور پر مانیٹر بھی کرسکے گی جبکہ موبائل صارفین نے حکومت کے اس فیصلے پر ملے جُلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ وہ واٹس ایپ، فیس بُک مسینجر جیسی ایپلی کیشن کا استعمال چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں جبکہ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ ''گورنمنٹ ایپ'' کو استعمال کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ اس کی کوالٹی اور رسپانسو ہونے پر ہی کیا جا سکے گا۔
خبر کا کوڈ : 826961
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب