0
Tuesday 12 Nov 2019 19:24

350 ارب سے زیادہ ریونیو دینے کے باوجود کراچی کا برا حال ہے، وسیم اختر

350 ارب سے زیادہ ریونیو دینے کے باوجود کراچی کا برا حال ہے، وسیم اختر
اسلام ٹائمز۔ میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ کراچی کے عوام اگر کسی اور پارٹی کو ووٹ نہیں دیتے جو حکومت میں ہو، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے بنیادی حقوق ہی سلب کرلئے جائیں، 350 ارب سے زیادہ ریونیو دینے کے باوجود کراچی شہر کا برا حال ہے، یہ کہاں کی جمہوریت ہے، بلدیاتی نظام کو مضبوط کئے بغیر نہ جمہوریت مضبوط ہوگی، نہ معیشت مستحکم ہو سکتی ہے، کراچی بہت مشکل حالات میں ہے، بلکہ آئی سی یو میں ہے، مگر کراچی کی طرف کسی کی توجہ نہیں، خواہ وہ وفاقی حکومت ہو یا صوبائی حکومت۔ کراچی الیکٹرونک ڈیلرز ایسوسی ایشن کے دفتر میں اپنے اعزاز میں دی گئی استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ایک ایک ماہ کی صفائی مہم چلائی، مگر اس سے ہونے والا فائدہ وقتی تھا، جبکہ کچرا اٹھانا روز کا کام ہے کوئی مہم نہیں، یہ کام وہی ادارے بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں، جن کا یہ بنیادی کام ہے اور ان کو اس کا تجربہ بھی ہے۔

وسیم اختر نے کہا کہ کراچی کے مسائل حل کرنے ہیں تو تمام اداروں کو یکجا کرکے ایک اتھارٹی کے ماتحت لایا جائے، درجنوں دیگر ادارے بنا کر میئر کی اتھارٹی کو ختم کرنے سے کبھی مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایل جی اے 2013ء نے اس شہر کو تباہ کیا ہے، ساری دنیا میں بلدیاتی ادارے مضبوط ہوتے ہیں، جس سے وہاں جمہوریت بھی مضبوط ہوتی ہے اور عوام کے مسائل بھی حل ہوتے ہیں، پاکستان میں سپریم کورٹ کی ہدایت پر بلدیاتی انتخابات تو کرا دیئے گئے، مگر اس سے قبل اداروں کو مفلوج کرکے پورے بلدیاتی نظام کو ہی تباہ کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں جمہوریت اور معیشت کو مضبوط کرنا ہے تو بلدیاتی نظام کو مضبوط کرنا ہوگا، تاکہ لوگوں کے بنیادی مسائل حل ہوں۔ میئر کراچی نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت کراچی کو خصوصی حیثیت دے، کیونکہ یہ شہر ملک کو سب سے زیادہ ریونیو دیتا ہے، سندھ حکومت بلدیاتی ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کرے، کیونکہ تنخواہ سندھ حکومت ہی دیتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 826989
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے