0
Wednesday 13 Nov 2019 15:42

بلوچستان میں عالمی معیار کا موٹر وے نہ ہونیکی وجہ سے حادثات ہوتے ہیں، علی شیر جھکرانی

بلوچستان میں عالمی معیار کا موٹر وے نہ ہونیکی وجہ سے حادثات ہوتے ہیں، علی شیر جھکرانی
اسلام ٹائمز۔ ڈپٹی انسپکٹر موٹر وے اینڈ ہائی وے پولیس بلوچستان علی شیر جھکرانی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں عالمی معیار کا کوئی بھی موٹروے روڈ موجود نہیں، ہائی وے روڈ بھی ڈبل کیرج ہونے چاہیئیں۔ بلوچستان میں سالانہ ٹریفک حادثات میں 19 سے 25 سال کے 60 ہزار نوجوان موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں، عوام میں شعور اجاگر کرکے ٹریفک حادثات میں کمی لائی جا سکتی ہے، اس حوالے سے موٹروے پولیس میڈیا اور ہرمکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ساتھ ملکر ڈرائیوروں اور شہریوں میں آگاہی کیلئے کام کر رہی ہے۔ یہ بات انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشن شہزادہ فرحت جان احمدزئی، کوئٹہ پریس کلب کے صدر رضا الرحمٰن بھی موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ موٹروے پولیس کے آئی جی، اے ڈی خواجہ بلوچستان کے لوگوں کو موٹروے کی سہولیات کی فراہمی اور پولیس میں روزگار کے لئے خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں، اس حوالے سے حالیہ بھرتیوں میں بھی صوبے کے نوجوانوں کو ترجیح دی گئی ہے لیکن صوبے کے نوجوان ڈرائیونگ میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے، جس کی وجہ سے انہیں آنے والی اسامیوں میں بھرتی کیلئے دیگر قواعد و ضوابط کے ساتھ ڈرائیونگ پر بھی عبور حاصل کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں 450 کلومیٹر سڑکیں موٹروے کے پاس ہیں، جبکہ 150کلومیٹر این ایچ اے کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ لوگوں میں شعور اجاگر کرکے بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات میں کمی لائی جائے۔

بلوچستان کی آبادی کے تناسب سے پاکستان بھر میں تقریباً 32 سے 36ہزار سالانہ اموات حادثات میں ہوتی ہیں، جن میں سے آبادی کے تناسب سے بلوچستان میں 4 سے 5 فیصد کے حساب سے تقریباً 6 ہزار افراد موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں جس کی بڑی وجہ غیر معیاری روڈ، ڈبل کیرج روڈ کی کمی اور تیز رفتاری کے علاوہ غیر تربیت یافتہ ڈرائیورز ہیں، اس حوالے سے عوام میں شعور اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے، موٹر وے پولیس بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مختلف بیٹ پر فرائض سرانجام دے رہی ہے، جسمیں مصیبت اور دیگر مشکلات میں پھنسے ہوئے مسافروں اور شہریوں کو تحفظ اور بحفاظت طریقے سے محفوظ مقام پر منتقل اور انکی مدد کرنے کے علاوہ انکے ساتھ اخلاقیات سے بات چیت کرنا شامل ہے۔
خبر کا کوڈ : 827116
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب