0
Thursday 14 Nov 2019 13:28

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی سمری پر دستخط کسی ڈیل کا نتیجہ نہیں، عارف علوی

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی سمری پر دستخط کسی ڈیل کا نتیجہ نہیں، عارف علوی
اسلام ٹائمز۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نجی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا ہے کہ وزیراعظم پر فرض ہے کہ رائے سب کی لیں اور فیصلہ خود کریں، آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی سمری پر دستخط کسی ڈیل کا نتیجہ نہیں، اسٹیبلشمنٹ کسی کو غیر مستحکم نہیں کررہی ہے، میں عدالت نہیں، جسٹس فائز عیسیٰ کے معاملے میں تحقیقات میں نہیں کرسکتا، نواز شریف کے لئے صدارتی معافی کا کوئی آپشن ہی نہیں، میں سمجھوتہ کرنے والا صدر نہیں، پارلیمنٹ قانون سازی کرکے سابق وزرائے اعظم کے لئے معافی کا قانون بناسکتی ہے، سرکار تو یہ کہتی ہے کہ آئینی شکنی بڑا جرم ہے، آرٹیکل 6 کہتا ہے آئین سے غداری بہت بڑا جرم ہے اور جو غداری کرتا ہے وہ سزائے موت کا حق دار ہے، کوئی شخص شدید علیل ہو، میں نہیں سمجھتا کہ اس کو بلیک میل کرنا چاہئے، میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے قانون کی اہمیت رہنا چاہئے۔

صدر مملکت عارف علوی کا کہنا تھا کہ کسی ایک کا نہیں تمام جماعتوں اور پوری قوم کا صدر ہوں، ریاست مدینہ کی ڈائریکشن میں ملک کو چلانے کی ضرورت ہے،  سیاسی کارکن کے طور پر میں نے بھی احتجاج کیا، شاہراہیں بند کیں، بازو پر گولی بھی کھائی، احتجاج کے دوران گرفتار بھی ہوا، سزا بھی ہوئی، ہمارا اعتراض یہ ہے کہ آزادی مارچ نے کشمیر سے فوکس ہٹادیا ہے، پارلیمنٹ کی موجودہ صورتحال افسوسناک ہے۔ صدر مملکت کا کہنا تھا کہ میں اس بات سے بخوبی آگاہ ہوں کہ میاں نواز شریف بیمار ہیں تاہم اس کے ذرائع ٹی وی اور اخبار ہیں جو کبھی کچھ تو کبھی کچھ خبر دیتے ہیں، وہ بیمار ہیں بالکل یہ بات درست ہے، شریف فیملی چاہتی ہے کہ باہر علاج ہو، یہی وجہ ہے کہ نچلا طبقہ شکایت کرتا ہے کہ ہم سب کو ایک طرح سے ٹریٹ نہیں کررہے ہیں، یہی وہ سوالیہ نشان ہے جس کا کوئی نہ کوئی حل نکالنا ہوگا اور یہ حل وزیراعظم عمران خان ان کی کابینہ اور ہمارا قانون نکالے گا۔

میزبان کے سوال کہ لاہور ہائیکورٹ میں 10 ہزار قیدیوں کی پٹیشن جاچکی ہیں کہ انہیں بھی اسی طرح سے مرضی کے اسپتال میں علاج کی سہولتیں فراہم کی جائیں اور یہ سہولتیں ایک ایگزیکٹو آرڈر سے بھی فراہم کی جاسکتی ہیں، جس پر صدر پاکستان عارف علوی کا کہنا تھا کہ ایگزیکٹو آرڈرکے اعتبار سے کوئی اچھی Justification بھی تو Build ہونا چاہئے، ابھی حال یہ ہے کہ ہم کہاں سے کہاں پہنچے اور دنیا کہاں سے کہاں نکل گئی، اس میں ہم دوسروں کو الزام نہیں دے سکتے کیونکہ ہماری غلطیاں اس میں موجود ہیں۔ اس سوال پر کہ بیماری پر سیاست اور نون لیگ کی جانب سے مشروط روانگی سے انکار اس صورتحال میں نواز شریف کو اگر کچھ ہوگیا تو ریاست بھی خطرے میں آسکتی ہے، جس پر صدر پاکستان کا کہنا تھا کہ ریاست میری زندگی کی گارنٹی دے سکتی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اس حوالے سے رپورٹنگ مختلف انداز سے ہوئی ہے، کیونکہ عدالت اس قسم کی بات کہہ بھی نہیں سکتی زندگی کی تو ایک لمحہ کی گارنٹی نہیں مل سکتی۔
 
خبر کا کوڈ : 827316
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے