0
Thursday 14 Nov 2019 20:31

عالمی سطح پر پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرنے والا منظم بھارتی نیٹ ورک بے نقاب

عالمی سطح پر پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرنے والا منظم بھارتی نیٹ ورک بے نقاب
اسلام ٹائمز۔ عالمی سطح پر پاکستان مخالف پراپیگنڈا کرنے والا منظم بھارتی نیٹ ورک بے نقاب ہو گیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین میں کام کرنے والی ایک تحقیقی ادارے نے اپنی حالیہ رپورٹ میں 260 سے زائد ایسی فیک نیوز ویب سائٹس کا کھوج لگایا ہے جو انڈین حکومت کے مفادات کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ریسرچ گروپ 'ڈس انفو لیب' کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ویب سائٹس انڈیا کے مفاد میں یورپی یونین اور اقوام متحدہ پر اثر انداز ہونے کے لیے بنائی گئی ہیں جو بارہا پاکستان پر تنقید کرتی پائی گئی ہیں۔ یہ ویب سائٹس امریکہ، کینیڈا، بیلجیئم اور سوٹزرلینڈ سمیت 65 سے زیادہ ممالک سے چلائی جا رہی ہیں۔ عالمی خبروں کی کوریج کے علاوہ ان میں سے بہت سی ویب سائٹس کشمیر کے تنازعے میں پاکستان کی کردار کشی کی غرض سے مظاہروں اور دیگر خبروں کی ویڈیوز تیار کر کے چلاتی ہیں۔

رواں سال اکتوبر میں ڈس انفو لیب کی ایک ٹاسک فورس نے 'ای پی ٹو ڈے‘ نامی ایک ویب سائٹ کی نشاندہی کی۔ ویب سائٹ پر دعوی کيا گيا ہے کہ وہ برسلز میں یورپی پارلیمنٹ کا ایک آن لائن میگزین ہے۔ اس ویب سائٹ پر پاکستان میں اقلیتوں سے متعلق بے تحاشہ مضامین شائع کیے گئے۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ اس ویب سائٹ کو بھارتی ''اسٹیک ہولڈرز'' چلا رہے ہیں، جن کا ایسے تھنک ٹینکس، این جی اوز اور کمپنیوں سے تعلق ہے جو ''سری واستوو گروپ'' کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ڈس انفو لیب کو یہ بھی پتہ چلا کہ  ''سری واستوو گروپ'' سے منسلک آئی پی ایڈریس کے ذریعے 'نیو دہلی ٹائمز‘ اور ''انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار نان الائنڈ اسٹڈیز'' نامی میڈیا ویب سائٹس بھی چلائی جا رہی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل 'انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار نان الائنڈ اسٹڈیز‘ کی جانب سے یورپی پارلیمان کے ستائیس اراکین کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر کا دورہ کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ داخلی سطح پر اس دورے پر تنقيد کرنے والے چند صحافيوں کو يورپی اراکین پارلیمان کے دورے کی فنڈنگ سے متعلق 'انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار نان الائنڈ اسٹڈیز‘ اور 'ای پی ٹوڈے‘ کے تعلق کا معلوم ہو گیا۔

تاہم 'ڈس انفو لیب' نے اس نیٹ ورک کے حوالے سے اپنی تفتیش جاری رکھی جو انھیں جنیوا لے گئی۔ وہاں ایک آن لائن اخبار 'ٹائمز آف جنیوا ڈاٹ کام' کا کھوج ملا جو اس نوعیت کا مواد چھاپ رہا تھا جیسا کہ 'ای پی ٹوڈے' یعنی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان پر تنقید کرنے کے لیے مظاہروں اور دیگر خبروں کی ویڈیوز اور مضامین۔ تحقیقی ادارے کے پاس کافی ایسے شواہد موجود ہیں کہ ای پی ٹوڈے اور ٹائمز آف جنیوا کا گٹھ جوڑ یورپین آرگنائزیشن فار پاکستانی مائیناریٹیز اور پاکستانی ویمنز ہیومن رائٹس آرگنائزیشن جیسے این جی اوز اور تھنک ٹینکس کے ساتھ ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ ویب سائٹس، این جی اوز اور تھنک ٹینکس ایک ہی سرور سے کام کر رہی ہیں جبکہ ان اداروں میں کام کرنے والے ہی ای پی ٹوڈے کے لیے مضامین لکھ رہے ہیں۔ یہ تمام ادارے گذشتہ چند برسوں سے کام کر رہے ہیں۔

ادارے کے مطابق ان کی تفتیش جاری ہے اور ایک نئی ویب سائٹ 'فور نیوز ایجنسی ڈاٹ کام' کا پتا لگا ہے جو اپنے حوالے سے دعوی کرتی ہے کہ وہ بلجئیم، تھائی لینڈ، ابوظہبی اور سویٹزر لینڈ میں کام کرنے والی چار نیوز ایجنسیوں کے اشتراک سے چلتی ہے۔ فور نیوز ایجنسی کے مطابق اس کے نمائندے دنیا کے 100 مختلف ممالک میں موجود ہیں۔ تاہم تجزیے سے پتا چلا ہے کہ یہ نیوز ایجنسی بھی ای پی ٹوڈے اور ٹائمز آف جنیوا جیسا مواد ہی شائع کر رہی تھی۔ آئی پی ایڈریس اور دیگر مواد پر تفتیش کے بعد 'ڈس انفو لیب' 265 سے زائد ایسی ویب سائٹس کا سراغ لگانے میں کامیاب ہوتی ہے جو 65 سے زائد ممالک سے چلائی جا رہی ہیں جبکہ ان کے کام کرنے اور ان پر چھپنے والے مواد ایک جیسا ہے۔ 
خبر کا کوڈ : 827429
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب