0
Friday 15 Nov 2019 18:45

ولادت رسول کی تاریخ میں اختلاف کو امام خمینی نے وحدت میں تبدیل کیا، نیاز نقوی

ولادت رسول کی تاریخ میں اختلاف کو امام خمینی نے وحدت میں تبدیل کیا، نیاز نقوی
اسلام ٹائمز۔ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب صدر علامہ قاضی سید نیاز حسین نقوی نے علی مسجد ماڈل ٹاﺅن لاہور میں خطبہ جمعہ میں خاتم المرسلین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے فرزند ارجمند چھٹے تاجدار امامت حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت باسعادت کو عظیم واقعات قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک لاکھ 24 ہزار پیغمبروں کی اہم خصوصیت عصمت و طہارت ہے۔ ان میں سے آخری نبی سرور کائنات کیلئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ساری دنیا کو آپ کیلئے خلق فرمایا، پوری کائنات میں خدا کے بعد سب سے زیادہ فضیلت حضرت محمد کی ہے، تمام انبیاء و رسل میں سے 313 نبی بھی ہیں اور رسول بھی، جبکہ ان میں سے 15 اولوالعزم بھی ہیں جن کو شریعت بھی دی گئی لیکن ہمارے نبی حضرت محمد، نبی ہیں، رسول بھی ہیں اور خدا نے انہیں شریعت بھی دی ہے، خدا نے ان کے احترام میں نبوت کو ختم کر دیا اور بعد میں اُن کی اہلبیت اور اولاد میں سے 12 امام مقرر فرمائے، جن میں سے پہلے امام مولا علی ہیں اور آخری امام مہدی ہیں۔ خدا کے بعد نبی اور نبی کے بعد علی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ولادت رسول اللہ کی تاریخوں میں اختلاف کو بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی نے اتحاد امت میں تبدیل کر دیا اور 12 تا 17 ربیع الاول کو ہفتہ وحدت قرار دیا جسے رہبر معظم آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی جاری رکھا۔ تہران میں وحدت ِ مسلمین کانفرنس شروع ہے، جس میں مختلف ممالک و مسالک کے 500 علماء شریک ہیں۔ ہمیں بھی پاکستان میں ماہِ ربیع الاول اور ہفتہ وحدت کو زیادہ بہتر سے منانا چاہیے۔ مسلک تشیع ہمیشہ سے اتحاد بین المسلمین کا قائل رہا ہے، ہم نے کبھی کسی فرقے کی تکفیر نہیں کی اور نہ ہی افتراق و انتشار کے قائل ہیں۔ اس دور میں اتحاد بین المسلمین کی ضرورت ہمیشہ سے زیادہ ہے۔ علامہ نیاز نقوی کا کہنا تھا کہ حضرت محمد مصطفی جس معاشرے میں پیدا ہوئے وہ جہالت کا معاشرہ تھا۔ اس وقت صرف 21 لوگ پڑھنا لکھنا جانتے تھے۔ جن میں سے 17 مرد اور 4 عورتیں تھیں۔ اس زمانے میں آپ نے 40 سال زندگی گزاری، لوگ اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے بتوں کو خدا مانتے اور ان کی پوجا کرتے۔ اس زمانے میں جو رسومات تھیں وہ بھی جہالت کی تھیں۔ لوگ خانہ خدا جاکر تالیاں بجاتے جبکہ عورتیں برہنہ ہو کر خانہ خدا کا طواف کرتیں، یہ ان کی عبادت تھی۔ لڑکیاں زندہ دفن کرتے۔ بیٹی کی پیدائش کا سن کر ان کا منہ کوئلہ کی طرح سیاہ ہو جاتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو امانت رکھنی ہوتی تو وہ آپ سے رجوع کرتے آپ (ص) کی امانت و صداقت مشہور تھی۔ حضرت رسول خدا کی ولادت سے پہلے تاریخ کے مختلف معیار تھے جب کوئی بڑا حادثہ رونما ہوتا تو لوگ اس سے تاریخ شروع کر دیتے۔ حضرت کی ولادت عام الفیل کے سال 17 ربیع الاول کو ہوئی۔ یہ وہ سال تھا جب ابرہا اونٹوں اور ہاتھیوں کیساتھ خانہ خدا کو مسمار کرنے آیا جس کو شکست ہوئی، یعنی عام الفیل کا پہلا سال چونکہ کوئی خاص معیار مشخص نہیں تھا۔ اس لیے اس واقعہ کو معیار بنایا گیا۔ جب حضرت محمد مصطفی مکہ سے مدنیہ ہجرت کر گئے تو تب سے ہجری تاریخ رقم کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی ولادت عرب کے ایک معزز خاندان میں ہوئی حضرت عبدالمطلب اسلام سے پہلے ہی تمام ناجائز چیزوں سے اجتناب کرتے تھے۔ حضرت کے گھرانے میں سے کوئی مشرک پیدا نہیں ہوا۔ جب ابرہا قافلہ لے کر آیا تو بہت سے لوگ ڈر کر بھاگ گئے لیکن چند لوگ جو ابرھا سے نہیں ڈرے ان میں سے ایک جناب عبدالمطلب تھے۔ جب ابرہا نے جناب عبدالمطلب سے ان کی آمد کی وجہ پوچھی تو انہوں نے اونٹ واپس مانگے اور یہ کہہ کر خدا کی وحدانیت کا اظہار کیا کہ یہ جس کا گھر ہے وہ خود اس کی حفاظت کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ مکتب اہل بیت کے نزدیک معصومیت عطائے الٰہی ہے۔ حضور پہلے سے ہی عصمت کے درجہ پر فائز تھے اور تمام خصوصیات پہلے سے ہی تھی، نبوت کی ذمہ داری اور منصب بعد میں دیا گیا۔ جب رسول اللہ کی ولادت ہوئی تو ولادت کے فوراً بعد آسمان کی طرف منہ کر کے کہا لا الہ الاللہ و انا رسول اللہ۔ یعنی اللہ کی وحدانیت اور اپنی رسالت کی گواہی دی۔ علامہ نیاز نقوی نے کہا کہ حضرت رسول اکرم کی ولادت کی تاریخوں میں اختلاف ہے۔6،9،12،17  ربیع الاول کے اقوال ملتے ہیں لیکن ہمارے نزدیک 17 ربیع الاول معتبر ہے چونکہ اہلبیت اطہار ؑ نے 17 ربیع الاول کو ہی حضور کی ولادت کا دن فرمایا ہے۔ اہل سنت میں زیادہ لوگ 12 ربیع الاول جبکہ کچھ لوگ 6 اور 9 ربیع الاول بھی مانتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 17 ربیع الاول امام جعفر صادق ؑ کا یوم ِ پیدائش بھی ہے۔ اس امام کو ترویج و تبلیغ دین کا بہت موقع ملا۔ چار ہزار کے قریب شاگرد ان کی تربیت کی جن میں قرآن و حدیث اور معروف دینی موضوعات کے علاوہ ریاضی، کیمیا وغیرہ میں بھی جلیل القدر علمی ہستیاں شامل ہیں۔ ہشام بن حکم، ابان بن تغلب ، محمد بن مسلم، مومن ِ طاق، جابر بن حیان وغیرہ چند معروف نام ہیں۔ امام علیہ السلام کو یہ فرصت ملنے کی اہم وجہ بنو امیہ کے دور کا خاتمہ اور بنو عباس کے دور کے آغاز تھا جس میں آپ نے اپنی الٰہی بصیرت سے سیاسی و حکومتی تنازعات سے اجتناب کرتے ہوئے اہم امور پر توجہ دی جس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ ابو مسلم خراسانی نے بھی جب آپ کی بیعت کی پیشکش کی تو آپ نے اس سے اظہار لا تعلقی کرتے ہوئے مسترد کر دیا۔ بعد میں اِس شخص نے حکومت میں آ کر 6 لاکھ انسان قتل کیے۔
خبر کا کوڈ : 827568
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب