0
Saturday 16 Nov 2019 00:49

کمانڈر بہاءابوالعطاء کی شہادت نے اسرائیل کے خاتمے کو نزدیک تر کر دیا ہے، بسام ابوشریف

کمانڈر بہاءابوالعطاء کی شہادت نے اسرائیل کے خاتمے کو نزدیک تر کر دیا ہے، بسام ابوشریف
اسلام ٹائمز۔ سابق فلسطینی صدر کے مشیر بسام ابوشریف نے 11 نومبر 2019ء کو غزہ پر اسرائیلی بمباری اور فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک جہادِ اسلامی کے کمانڈر بہاء ابوالعطاء کی شہادت پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایران، شام، لبنان اور فلسطین میں امریکہ و اسرائیل کی شکستِ فاش اس بات کا سبب بنی ہے کہ غاصب صیہونی رژیم اسرائیل کو پمپیو اور کشنر کیطرف سے اس خطے میں توڑ پھوڑ، قتل اور خونریزی پھیلانے کیلئے تازہ فوجی و اطلاعاتی اقدامات انجام دینے کی ترغیب دلائی جائے تاکہ نزدیک ہوتے امریکی انتخابات کی فضا کو اپنے حق میں بدلا جا سکے۔

بسام ابوشریف نے فلسطینی ویب سائٹ "فلسطین الیوم" کیلئے لکھے گئے اپنے کالم میں غاصب صیہونی رژیم اسرائیل کیطرف سے اسلامی مزاحمتی تحریک جہادِ اسلامی کے کمانڈر بہاء ابوالعطاء کو انکی اہلیہ سمیت شہید کرنے اور دمشق میں موجود جہادِ اسلامی کے ایک اور کمانڈر اکرم العجوری کو شہید کرنے کی مذموم کوشش کو مشرق وسطی کیلئے بنائے گئے مذموم منصوبوں میں امریکہ کی پی در پی شکست کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے امریکی ناکامیوں کی مندرجہ ذیل فہرست پیش کی ہے:

1۔ خلیج فارس سے لیکر بحیرۂ روم تک ہر امریکی منصوبے کی ناکامی۔
2۔ ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے میں امریکہ کی کھلی شکست اور حتی یہ کہ وہ تو ایران کو مذاکرات پر بھی آمادہ نہ کر سکا۔
3۔ جوہری معاہدے سے امریکہ کے یکطرفہ خروج پر ایران کی خود اعتمادی پر مبنی پیشرفت اور جوہری معاہدے میں خلاف ورزی کی صورت میں طے شدہ پروگرام پر ایران کیطرف سے کامیابی کیساتھ عملدرآمد۔
4۔ شامی صدر بشار الاسد، فوج، قوم اور شام کے دوستوں (ایران، اسلامی مزاحمتی محاذ اور روس) کی عالیشان کامیابیاں۔
5۔ لبنان میں حزب اللہ اور میثاقِ صلح پر حملوں کے ذریعے فتنہ پردازی کی بڑی امریکی کوششوں کی ناکامی۔
6۔ مشرق وسطی کیلئے ٹرمپ کے (معاملے کی ڈیل نامی) مذموم منصوبے کی ناکامی جس کو فلسطینیوں نے یکسر ردّ کر دیا تھا۔

سابق فلسطینی صدر کے مشیر بسام ابوشریف کا لکھنا تھا کہ امریکی انتخابات کے نزدیک ٹرمپ منصوبوں میں پےدرپے شکست اور امریکہ کے اندر ہونے والی تنقید کی بناء پر ٹرمپ اب غیرقانونی ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے جبکہ یہی چیز آئندہ امریکی انتخابات میں ٹرمپ کو لے ڈوبے گی تاہم اس ناکامی سے بچنے کیلئے ٹرمپ نے مشرق وسطی میں اس سے بڑی حماقت دہرائی ہے جو اُسے پہلے سے کہیں بڑے ناکامی کے گڑھے میں جا گرائے گی۔

بسام ابوشریف لکھتے ہیں کہ گو کہ اسرائیل کو امریکہ کیطرف سے ان اقدامات پر مأمور کیا جاتا ہے لیکن وہ خود بھی ان کارروائیوں میں اپنا شوق و ذوق ظاہر کرتا رہتا ہے لیکن امریکہ و اسرائیل اپنے ان اقدامات کے ذریعے فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریکوں کو ایک اور موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ واشنگٹن، تل ابیب اور ریاض کی توقعات سے بڑھ کر جواب دیں۔ انہوں نے لکھا کہ جب اسرائیل پر فائر کیا گیا ایک راکٹ ہر طرف افراتفری مچا کر غاصب صیہونیوں کی تمامتر زندگی کو مفلوج کر دیتا ہے تو پھر اسرائیل تصور کرے کہ ہزارہا فلسطینی میزائل اسرائیل کیساتھ کیا کریں گے؟ اور جب غزہ کیساتھ ساتھ 40 کلومیٹر کی اسرائیلی پٹی آبادکاروں سے خالی ہو چکی ہے تو اسرائیلی شہر عسقلان پر فلسطینی مزاحمتی فورسز کے خصوصی دستوں کے حملے کون روکے گا۔ انہوں نے آخر میں لکھا کہ یہ تمامتر حالات مقبوضہ فلسطین (اسرائیل) کو اپنی لپیٹ میں ضرور لیں گے۔ انہوں نے لکھا کہ اس وقت دشمن کی صفوں کے گرنے کا سنہری موقع آن پہنچا ہے جبکہ دشمن کو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کرنے پر، زمینی شکست کے علاوہ کوئی اور چیز مجبور نہیں کر سکتی۔
خبر کا کوڈ : 827606
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب