0
Saturday 16 Nov 2019 20:54

نواز شریف فیصلے کی مصدقہ کاپی امیگریشن میں دکھا کر ملک سے باہر جاسکتے ہیں، انور منصور خان

نواز شریف فیصلے کی مصدقہ کاپی امیگریشن میں دکھا کر ملک سے باہر جاسکتے ہیں، انور منصور خان
اسلام ٹائمز۔ اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان نے کہا ہے کہ  سابق وزیراعظم نواز شریف لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی مصدقہ کاپی امیگریشن میں دکھا کر ملک سے باہر جاسکتے ہیں۔ حکومت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد نواز شریف کا نام ای سی ایل میں ہونے کی وجہ سے ان کو علاج کے لیے ایک دفعہ ملک سے باہر جانے کی اجازت کے عوض انڈیمنٹی بانڈ جمع کرانے کی شرط رکھی تھی۔ حکومت فیصلے کے خلاف شہباز شریف نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ لاہور ہائیکورٹ نے شہباز شریف کی درخواست پر  اپنے فیصلے  میں نواز شریف کو 4 ہفتوں کے لیے علاج کی غرض سے ملک سے باہر جانے کی اجازت دے دی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں حکومت کو نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اٹارنی جنرل آف پاکستان نے کہا کہ انڈیمنٹی بانڈز سے متعلق فیصلہ حکومت اور وفاقی کابینہ نے کیا تھا اور یہ وہ تحریری فیصلہ آنے کے بعد ہی حکومت کو مشورہ دے سکیں گے۔ نواز شریف کا نام ای سی ایل میں ہونے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے کی مصدقہ کاپی امیگریشن میں دکھا کر نواز شریف ملک سے باہر جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوری میں کیس کی سماعت ہوگی جب کہ اجازت میں توسیع مختلف شرائط پر بھی ہوسکتی ہے اور اس کے لیے کے لیے عدالت سے رابطہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ میڈیکل رپورٹ کے علاوہ دیگر شرائط  اور پیسےجمع کرانے یا بونڈ پربھی قیام میں توسیع ہوسکتی ہے۔ اٹارنی جنرل انور منصور نے کہا ہے کہ نواز شریف کو صرف باہر جانے کی اجازت ملی ہے انکی سزا معطل نہیں ہوئی اور نہ ان کا جرمانہ معاف ہوا، ان پر تاحال سات ارب روپے کا جرمانہ عائد ہے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف پر ایک فیصلے میں سات ارب روپے ہرجانہ عائد کیا گیا ہے اور انہوں نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی ہوئی ہے سزا صحیح ہے یا نہیں، یا تو وہ فیصلہ کالعدم ہوگا یا درست تاہم فیصلہ ابھی برقرار ہے۔ انور منصور نے کہا کہ  نواز شریف نے ضمانت مانگی تو سوالات اٹھے کہ ضمانت دی جائے یا نہیں؟ کیوں کہ نیب لا کے تحت ملزم کی سزا معطل نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی ضمانت دی جاسکتی ہے تاہم دیگر لاز میں ضمانت ممکن ہے۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ معاملہ عدالت میں آنے پر حکومت نے باہر جانے پر اعتراض نہیں کیا تاہم وہ کوئی نہ کوئی ضمانت چاہتی ہے کیوں کہ پہلے بھی نواز شریف نے دیے گئے بانڈز پر عمل درآمد نہیں کیا، ضمانت کے بعد وہ ہاسپٹل کے بجائے گھر چلے گئے اور اسے آئی سی یو بنالیا بعد ازاں بیرون ملک جانے کی درخواست فائل کردی, جس پر ہم نے اعتراض عائد کیا کہ جس عدالت میں مقدمہ ہو درخواستیں اسی عدالت میں جانی چاہئیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم نے آج کے فیصلے کے خلاف کوئی اپیل فائل نہیں کی ہمیں ان کے باہر جانے پر نہیں بلکہ بغیر بانڈز کے باہر جانے پر اعتراض ہے جس کی ہم نے لاہور ہائی کورٹ میں بھی مخالفت کی تاہم ہائی کورٹ نے انہیں باہر جانے کی اجازت دے دی جو کہ صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی ہے تاہم سزا و جرمانہ برقرار ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کو انڈر ٹیکنگ دینا معمولی بات نہیں اس کا ذکر فیصلہ میں بھی ہوگا، خلاف ورزی پر نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف 61 (2) بی کی کارروائی ہوسکتی ہے، آج کی درخواست کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد اپنے رائے کابینہ کے سامنے پیش کروں گا فیصلے کے خلاف اپیل کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ کابینہ کی صوابدید پر منحصر ہے۔
خبر کا کوڈ : 827771
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب