0
Tuesday 19 Nov 2019 10:58

دستکاری کیجانب انتظامیہ کی عدم توجہی سے بے روزگاری کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ

دستکاری کیجانب انتظامیہ کی عدم توجہی سے بے روزگاری کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ
اسلام ٹائمز۔ مقبوضہ کشمیر میں بے روزگاروں کی شرح ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہی جارہی ہے۔ بے روزگاری نے وادی کشمیر کے لاکھوں افراد کی زندگی اجیرن بنا کے رکھ دی ہے۔ بے روزگاری کے ہوتے ہوئے کمر توڑ مہنگائی نے لاکھوں افراد کو بے چین کردیا ہے لیکن اس دھرتی پر ان افراد کا آنسو پونچھنے والا کوئی موجود نہیں ہے۔ بے روزگاری کی وجہ سے وادی کے یمین و یسار میں عوام رو رہے ہیں، لیکن حکام بے پرواہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ اس میں دو رائے نہیں کہ موجودہ دور میں بھی وادی میں بے روزگاری کا خاتمہ کرنے کے لئے وسائل کی فراوانی ہے، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ حکام ان وسائل کو بروئے کار لانے کے بجائے دیگر فضول سرگرمیوں میں وقت ضائع کررہے ہیں۔ ایک طرف وادی کشمیر میں عرصہ دراز سے بے روزگاری کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے بڑے اور بلند بانگ دعوے کئے جارہے ہیں وہی دوسری جانب روزگار کے قدیمی و روایتی وسائل کوپشت بہ دیوار کرکے لاکھوں دستکاروں کا قافیہ حیات تنگ کیا گیا ہے۔

کوزہ گری، پیپرماشی، پشمینہ سازی، قالین بافی، شال بافی، سوزنی اور آری بافی جیسے درجنوں وسائلِ روزگار کے تئیں حکومت کی عدم توجہی کے سبب لاکھوں افراد کا روزگار بری طرح متاثر ہورہا ہے اور دسیوں ہزار خانوادے اقتصادی طور کمزور ہوئے۔ ان وسائل کو پشت بہ دیوار کرنے کی وجہ سے بے روزگاری کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ انتظامیہ کی جانب سے کوئی راحت نہ ملنے سے کوزہ گر، قالین باف اور شال باف جیسے دسیوں ہزار دستکار فاقہ کشی پر مجبور ہوئے۔ حکومت کی جانب سے روزگار کے ان وسائل کا گلہ دبائے جانے کے بعد نوجوانوں کا ایک بہت بڑا طبقہ پرائیویٹ اداروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوئے، لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ان اداروں میں آٹے میں نمک کے برابر تنخواہ ملنے کی وجہ سے نوجوانوں کی ایک تعداد نفسیاتی امراض کا شکار ہوگئی۔ وادی کشمیر میں کوزہ گری، شال بافی اورقالین بافی جیسے صنعتوں کا تقریباً نوے فیصد صفایا ہوا۔ جبکہ مٹھی بھر دستکار ابھی بھی اس طرح کے وسائل کا سہارا لیکر روزی روٹی کا انتظام کررہے ہیں۔
 
غریب خاندان سے وابسیہ کچھ دستکاروں کا کہنا ہے کہ پچھلی دو دہائی سے قالین بافی کی صنعت حکومت کی تنگ نظری کا شکار ہوگئی ہے، جس کی وجہ سے دسیوں ہزار دستکار روزی روٹی سے محروم ہوگئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف سے کمر توڑی مہنگائی نے ان کا جینا دوبھر کردیا، وہیں دوسری طرف سے قالین بافی کی صنعت تباہ و برباد ہونے سے ان کی زندگی کا سفر دشوار سے دشوار تر بن گیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ قالین بافی کی صنعت سرکاری سطح پر نظرانداز ہونے کی وجہ سے ہمیں گوناگوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر میں ان صنعتوں کا وجود مٹ جانے سے دسیوں ہزار خانوادوں کا مستقبل تاریک ہوگیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ خودکشی کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ سے درخواست کی کہ وہ وادی میں اس شعبہ کی شان رفتہ بحال کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔
 
خبر کا کوڈ : 828005
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے