0
Tuesday 19 Nov 2019 20:41

وادی سوات میں ترک شاہی دور کے آثار دریافت

وادی سوات میں ترک شاہی دور کے آثار دریافت
اسلام ٹائمز۔ پاکستان کے شمالی صوبہ خیبر پختونخوا کی وادی سوات میں ترک شاہی دور کے آثار دریافت ہوئے ہیں۔ 1300 سال پرانے مندر کو محفوظ بنانے کیلئے  اطالوی ماہرین کی نگرانی میں کام جاری ہے.

تحصیل بریکوٹ میں غونڈئی پہاڑ کی چوٹی پر کھدائی کے دوران  ایک عمارت دریافت ہوئی ہے جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ ترک شاہی دور کا مندر ہے۔ یہ وادی دور ماضی میں سوات میں مقیم ترک شاہی دور کا بالا حصار بھی رہی ہے۔ اس تاریخی مندر کے آثار دریافت ہونے پر اطالوی آرکیالوجیکل مشن نے کام شروع کر دیا ہے۔ اس تاریخی عمارت کی کھدائی شروع کر کے محفوظ بنایا جا رہا ہے۔ اس مندر کو محفوظ بنانے کیلئے انتہائی باریکی کے ساتھ کھدائی ہو رہی ہے۔

ڈاکٹر لوکا کے مطابق بریکوٹ میں بہت کچھ موجود ہے، ایک ایک چیز کو محفوظ کیا جا رہا ہے، پہاڑ کی چوٹی پر واقع اس تاریخی عمارت سے کئی نوادرات بھی ملے، یہاں جانے کیلئے راستہ انتہائی دشوار گزار ہے۔ ٹاپ سے دریائے سوات کا منظر انتہائی حسین ہے۔

اس وادی میں بدھ مت دور کے تاریخی اور ثقافتی آثار بھی موجود ہیں جو عظمت رفتہ کی یادگار ہے۔ یہ قدیم آثار نہ صرف قومی ورثہ ہیں بلکہ یہ سوات کی  گزری تاریخ کی یاد بھی دلاتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 828087
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے