0
Friday 22 Nov 2019 21:07

پنڈی والوں کے ساتھ حکومت کے رومانس کا دور پورا ہو چکا ہے، سراج الحق

پنڈی والوں کے ساتھ حکومت کے رومانس کا دور پورا ہو چکا ہے، سراج الحق
اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے ڈیرہ غازی خان میں کشمیر مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہےکہ پنڈی والوں کے ساتھ حکومت کے عشق و محبت کا رومانٹک دور گزر چکا، اب مصنوعی مسکراہٹوں اور جذباتی تقاریر کی مارکیٹ نہیں رہی، حکمرانوں کی خراب کارکردگی کی وجہ سے اِن کو لانے والوں کا امیج بھی متاثر ہوا ہے، کنفیوژن کے شکار عمران خان نے قوم کو بھی پریشان کر رکھا ہے، حکمران ٹرمپ سے رابطے کر رہے ہیں، مگر اَب امریکہ بھی اِنہیں بچا نہیں سکے گا، کشمیر سے بے وفائی کرنے والوں کا انجام دنیا جانتی ہے، اگر حکمرانوں نے خاموشی نہ توڑی اور کشمیر پر جلد کسی لائحہ عمل کا اعلان نہ کیا تو وہ وقت دور نہیں جب موجودہ وزیراعظم بھی کہتے پھریں گے کہ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘، حکمرانوں کی ناکامیاں بتا رہی ہیں کہ ان کا مستقبل بھی اڈیالہ اور کوٹ لکھپت ہے۔ انکا کہنا تھا کہ دنیا کا واحد وزیراعظم ہے جو ہر بیرونی دورے پر عالمی میڈیا کے سامنے کہتا ہے کہ میری قوم کرپٹ ہے، ملک پر خالی کھوپڑی والے حکمران مسلط ہیں۔

اِن حکمرانوں نے 15ماہ میں ایک سو پندرہ یوٹرن لئے، ملک پر عملاً آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی حکمرانی ہے، خزانے اور سٹیٹ بنک کی چابیاں آئی ایم ایف کے ملازموں کو دے دی گئی ہیں اور عوام کو مہنگائی اور بے روز گاری کی دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے، قوم اپنی بہادر افواج کی طرف دیکھ رہی ہے، اِن کی آنکھوں میں ایک ہی سوال ہے کہ کشمیر کے حوالے سے اُن کا کیا لائحہ عمل اور روڈ میپ ہے؟، وقت ہمارے ہاتھوں سے نکلا جارہا ہے، کشمیر پر بھارت اپنے قبضہ کو مضبوط کر رہا ہے اگر جلد کوئی فیصلہ نہ کیاگیا تو آنے والی نسلوں کو پچھتانا پڑے گا، اگر کشمیر کی تحریک آزادی ناکام ہوئی تو پاکستان کا وجود بھی خطرے میں پڑ جائے گا، حکومت کشمیر پر ہونے والے لاہور، شملہ اور تاشقند معاہدوں کو فوری ختم کرنے کا اعلان کرے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ان معاہدوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بلڈوز کرتے ہوئے کشمیر کو ہڑپ کرنے کی کوشش کی۔ ڈیرہ غازی خان میں کشمیر مارچ سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ وزیراعظم خود بھی کنفیوژن کا شکار ہیں اور قوم کو بھی پریشان کر رکھا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ حکمرانوں کی خاموشی بتارہی ہے کہ وہ کشمیر کا سودا کرچکے ہیں اور اَب مسئلہ کشمیر کو دفنانا چاہتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ کشمیر ہمارے لئے محض زمین کا نہیں ضمیر، عقیدے اور نظریے کا مسئلہ ہے، کشمیر پاکستان کی بقا، سلامتی اور تحفظ کا مسئلہ ہے، اس لئے یہ صرف پاکستانیوں کا نہیں اُمت اور عالم اسلام کا مسئلہ ہے، اگر حکمرانوں نے قوم کو اعتماد میں لیکر جلد کوئی فیصلہ نہ کیا تو عوام اِن حکمرانوں کو گریبانوں سے پکڑ کر ایوانوں سے باہر نکالے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے سنگ مرمر کے قبرستان میں بیٹھے حکمران اپنی ذات کے سحر میں مبتلا ہیں اور اقتدار کو ذاتی مفادات کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ حکمران صبح و شام قوم کو بھارت کی قوت سے ڈرا رہے ہیں، اِن بزدلوں کو پتا نہیں کہ سوویت یونین بھارت سے کہیں زیادہ طاقتور تھا، مگر نہتے افغانوں نے اِس کا غرور خاک میں ملایا اور آج وہ کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہوچکا ہے، افغانستان نیٹو کے تکبر کا بھی قبرستان بنا، بھارت کا تکبر بھی بہت جلد خاک میں ملنے والا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ وہ وقت دور نہیں جب بھارت کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہوگا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکمرانوں نے قوم سے جھوٹ نہ بولنے کا وعدہ کیا تھا لیکن ہر روز قوم کو ایک نیا فریب دیا اور سبز باغ دکھایا جاتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ حکمرانوں نے مدینہ کی ریاست کا نعرہ لگایا، لیکن اس کا مذاق اُڑایا اور قوم کو دھوکہ دیا، اگر حکمران کچھ کر نہیں سکتے تھے تو مدینہ جیسی اسلامی ریاست کا نام لیکر قوم کو دھوکہ دینے کی کیا ضرورت تھی؟۔ اُنہوں نے کہاکہ خلاء میں رہنے والے وزراء عوام کی مشکلات اور پریشانیوں سے بے بہرہ ہیں، یہ راتوں کو جاگنے اور دن کو سونے والے لوگ ہیں، عوام اُنہیں ڈھونڈتے پھرتے ہیں مگر صبح کو یہ کہیں نظر نہیں آتے۔ اُنہوں نے کہا کہ ملک و قوم کی مشکلات کا حل اسلامی انقلاب اور نظام مصطفی ﷺکا نفاذ ہے، قوم نے سب کو ایک بار نہیں کئی بار آزما کر دیکھ لیا ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 828503
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے