0
Thursday 5 Dec 2019 16:24

شہباز شریف کے اثاثوں میں 10 سال کے دوران 70 گنا اضافہ ہوا، شہزاد اکبر

معاون خصوصی برائے احتساب کے شہباز شریف سے 18 سوالات
شہباز شریف کے اثاثوں میں 10 سال کے دوران 70 گنا اضافہ ہوا، شہزاد اکبر
اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کے اثاثوں میں 10 سال کے دوران 70 گنا اضافہ ہوا، حمزہ اور سلمان شہباز کے اثاثوں میں بھی ہوشربا اضافہ ہوا۔ اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہزاد اکبر کا کہنا تھا شہباز شریف کی لندن کی نیوز کانفرنس ٹھس تھی، وہ ایک دھیلے کی کرپشن کی بات کرتے ہیں لیکن یہاں تو اربوں روپے کی کرپشن ہوئی ہے۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ  نومبر 2018ء میں نیب نے کچھ تحقیقات شروع کیں تو پتہ چلا کہ شہباز شریف کے اثاثوں میں 10 سال کے دوران 70 گنا اضافہ ہوا ہوا، سلمان شہباز کے اثاثوں میں ایک ہزار گنا اضافہ ہوا ہے اور حمزہ شہباز کے اثاثوں میں بھی ہوشربا اضافہ ہوا، سلمان شہباز ایک بھگوڑا ہے اور اس کی جائیداد ضبطگی شروع ہو چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا جعلی ٹی ٹیز کے ذریعے معصوم لوگوں کے نام پر پیسہ باہر سے آیا، 32 کمپنیاں بنائی گئیں اور کئی ملزمان پکڑے جا چکے ہیں، کاغذی کمپنیوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ سب کچھ ڈکلیئرڈ ہے، آنے والے دنوں میں مختلف کمپنیوں کی کارستانیاں سناؤں گا۔ انہوں نے بتایا کہ ٹی ٹیز کی رقم سے 32، 33 کمپنیاں بنائی گئیں جس سے کاروبار کی ایمپائر کھڑی کی گئی، یہ کاروبار شریف خاندان کے کاروبار سے الگ ہے، یہ کاروبار 200 سے زیادہ ٹی ٹیز کی رقم سے شروع کیا گیا، ان لوگوں نے کمپنیوں کے بارے جعلی کاغذات پیش کیے، معصوم لوگوں کا نام استعمال کر کے ٹی ٹیز اکاؤنٹس میں ڈالی گئیں۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ جی ایم سی کمپنی کے تین ملازمین ہیں جن کا نام آ رہا ہے، مہر نثار گل سی ایم ہاؤس میں ڈائریکٹر پولیٹیکل آفیئرز تھا، ایک اور ملازم بھی سیاسی مشیر کے طور پر تعینات تھا۔

انہوں نے بتایا کہ مہر نثار گل نیب کی حراست میں ہے جس نے اعتراف کیا کہ یہ کاغذی کمپنی ہے، اس کمپنی نے 7 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کمپنی کے دو کیش بوائز ٹریس ہوئے جنہوں نے دو ارب سے زائد کی ٹرانزیکشن کی، دونوں کیش بوائز زیر حراست ہیں جنہوں نے ساری تفصیلات بتائیں، جعلی کمپنیز کی طرح سیلز بھی جعلی تھیں، ثابت ہو گیا کہ اس نیٹ ورک کا کنٹرول روم سی ایم ہاؤس پنجاب تھا۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کے پنجاب میں کرپشن کے الزامات کے حوالے سے شہزاد اکبر نے کہا شہباز شریف نے بڑے دعوے کیے کہ ڈیلی میل کے خلاف عدالت جائیں گے، ڈیلی میل کے خلاف شہباز شریف نے مقدمہ تو درکنار ایک بھی جواب نہیں دیا۔


علاوہ ازیں معاون خصوصی برائے احتساب نے شہباز شریف سے 18 سوالات کے جواب طلب کیے۔ شہزاد اکبر نے بتایا کہ کمپنی کے زیر حراست دو کیش بوائز نے بھی جعلی ٹی ٹیز کا اعتراف کرلیا ہے۔ شہزاد اکبر نے حسب ذیل 18 سوالات پوچھے:
سوال نمبر 1: کیا نثار احمد گل وزیر اعلیٰ کے ڈائریکٹر برائے سیاسی امور اور ملک علی احمد وزیر اعلیٰ کے پالیسی ساز کے عہدوں پر تعینات نہیں تھے؟
سوال نمبر 2: کیا نثار احمد گل اور علی احمد آپ کے فرنٹ مین نہیں تھے؟
سوال نمبر 3: کیا یہ دونوں کاغذی کمپنی گڈ نیچر کے مالک نہیں تھے؟
سوال نمبر 4: کیا نثار احمد گل نے اپنے بینک اکاؤنٹ کے اوپنگ فارم میں اپنا عہدہ مشیر برائے سیاسی امور وزیر اعلیٰ پنجاب اور پتہ چیف منسٹر آفس نہیں لکھوایا تھا؟
سوال نمبر 5: کیا آپ کا ڈائریکٹر سیاسی امور نثار احمد کل آپ کے صاحبزادے سلیمان شریف کے ساتھ مختلف دوروں پر لندن، دبئی اور قطر نہیں گیا تھا؟
سوال نمبر 6: کیا انہوں نے بھاری رقم آپ کے ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل نہیں کیے تھے؟
سوال نمبر 7: کیا آپ نے ان پیسوں سے تہمینہ درانی شریف کے لیے وسپرنگ پائن کے دو ویلاز نہیں خریدے تھے؟
سوال نمبر 8: کیا آپ کے کیش بوائیز مسرور انور اور شعیب قمر نے جی ایم سی سے اربوں نکال کر آپ کے دونوں حمزہ اور سلیمان کے اکاونٹ میں منتقل نہیں کیے تھے؟
سوال نمبر 9: نثار گل ان کے اکاونٹس سے آپ کے اور آپ کے بیٹوں کو یہ رقم منتقل نہیں کی گئی تھی؟
سوال نمبر 10: کیا جی ایم سی سے اربوں کیش کی صورت میں نکال کر آپ اور آپ کے خاندان کے اندورنی اور بیرونی اخراجات کے لیے استعمال نہیں کیے گئے؟
سوال نمبر 11: کیا جی ایم سی نے بلواسطہ آپ کے چپڑاسی ملک مقصود کے اکاونٹ میں کروڑوں روپے جمع نہیں کرائے تھے؟
سوال نمبر 12: کیا جی ایم سی کے مالکان کو وزیراعلیٰ کے آفس میں اعلیٰ عہدوں پر فائز کرکے آپ براہ راست کالا دھن کو سفید کرنے کے کاروبار کو تحفظ دینے کے لیے سرپرستی نہیں کرتے تھے؟
سوال نمبر 13: کیا آپ کی رہائش گاہ 56 ایچ ماڈل ٹاؤن میں کمیشن رقوم وصول ہوتی نہیں رہی؟
سوال نمبر 14: کیا ان رقوم کو شریف گروپ کے دفتر واقع 55 کے ماڈل ٹاؤن میں منتقل کرنے کے لیے آپ کی ذاتی گاڑی استعمال نہیں ہوتی رہی؟
سوال نمبر 15: کیا دبئی کی چار کمپنیوں جو بیگم نصرت شہباز اور سلیمان شہباز کے اکاونٹ بذریعہ ٹی ٹی رقوم منتقل کرتی رہی؟
سوال نمبر 16: کیا یہ وہی کمپنیاں نہیں ہیں جو آصف زرداری اور اومنی گروپ کے لیے بھی منی لانڈرنگ کرتی رہی؟
سوال نمبر 17: کیا ڈیفٹ کے دیے ہوئے پیسے کی آپ کے داماد علی عمران نے بذریعہ نوید اکرام لوٹ مار نہیں کی؟
سوال نمبر 18: کیا آپ ہمیں بتانا پسند کریں گے کہ پاکستان کی عزت بحال کرنے کے لیے لندن کی عدالتوں میں ڈیلی میل کے صحافی ڈیوڈ روس اور میرے خلاف حرجانے کا دعویٰ دائر کریں گے؟

وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے کہا کہ حکومت سول مقدمات میں معاہدوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور وہ لوگوں کو جیل میں رکھنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) اور پراپرٹی ٹائکون ملک ریاض کے 19 کروڑ پاؤنڈ کے تصفیے سے متعلق کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب قانونی عمل کے ذریعے کسی دوسرے ملک سے رقم واپس ملک میں آئی ہو۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ یہ قابل ذکر بات ہے کہ یہ معاملہ کوئی فوجداری مقدمہ نہیں بلکہ سول نوعیت کا ہے۔ رقم سپریم کورٹ کو دی جائے گی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ رقم سپریم کورٹ سے لی جائے گی اور ریاست کے حوالے کردی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت تحقیقات میں تیزی لانے اور پاکستان میں رقم واپس کرنے پر برطانوی حکومت اور این سی اے کے شکر گزار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کیونکہ اس معاملے میں دوسرے ملک کی حکومت شامل ہے لہذا وہ رازداری کا پابند ہیں اور اس بارے میں تفصیلات پر تبصرہ کرنے سے گریز کریں گے۔ خیال رہے کہ 2 روز قبل ملک ریاض نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت بحریہ ٹاؤن کراچی کیس میں 19 کروڑ پاؤنڈز کی رقم جمع کروانے کے لیے برطانیہ میں موجود ظاہر شدہ قانونی جائیداد فروخت کی۔ تاہم جب اس بارے میں این سی اے کے ایک عہدیدار سے پوچھا گیا کہ آیا یہ تصفیہ ملک ریاض کی جانب سے جائیداد فروخت کرنے کا نتیجہ ہے تو انہوں نے بتایا کہ این سی اے نے جائیداد کی ملکیت حاصل کرلی ہے جسے فروخت کر کے آمدنی پاکستان کو واپس کی جائے گی۔
 
خبر کا کوڈ : 830944
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش