0
Friday 6 Dec 2019 13:40

احتساب کرنا اگر جرم ہے تو یہ جرم کرتے رہیں گے، جاوید اقبال

احتساب کرنا اگر جرم ہے تو یہ جرم کرتے رہیں گے، جاوید اقبال
اسلام ٹائمز۔ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ احتساب کرنا اگر جرم ہے تو یہ جرم کرتے رہیں گے، کرپشن نے ملک کو معاشی تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے، اس وقت ملک 100 ارب ڈالر سے زیادہ کا مقروض ہوگیا ہے، نیب نے کرپشن کے خلاف بلاامتیاز اقدامات کا آغاز کرکے اپنی منزل کا تعین کردیا ہے۔ نیب کی کسی سے وابستگی نہیں ہماری وفاداری صرف اور صرف پاکستان کے ساتھ ہے، جس کی قیمت ادا کر رہے ہیں، راولپنڈی میں سیمینار سے خطاب میں چیئرمین نیب نے کہا کہ جتنا احتساب اور بدعنوانی کےخلاف کارروائیاں اس دور میں ہوئی ہیں ملکی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، نیب نے اپنے قیام سے اب تک 328ارب روپے کی وصولیاں کی ہیں، اس وقت 943 ارب روپے کے 1261 مقدمات نیب عدالتوں میں زیرسماعت ہیں۔ جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ریاست مدینہ کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا جب تک ذاتی مفادات کو قومی مفادات کے تابع نہ کر دیا جائے۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ ریاست مدینہ کے خواب کو عملی شکل دینے کے لیے سب سے پہلے خود کو ٹھیک کرنا ضروری ہے، ریاست مدینہ اس وقت بن سکتی ہے جب ذاتی مفادات کو قومی مفادات کے تابع  کیا جائے، یہ کام صرف حکومت کا نہیں ہے سب کو مل کر اس میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ بنیادی بات قانون کی حکمرانی ہے، جب کوئی قانون کی بالادستی کے لیے قدم اٹھتا ہے تو اسے تلخ حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ہمارے ملک میں قوانین کی کوئی کمی نہیں  اگر کمی ہے تو صرف اور صرف اس پر عملدرآمد  کروانے کی، ہم چہرے کو نہیں صرف کیس کو دیکھتے ہیں، نیب انسان دوست ادارہ ہے ہمیشہ لوگوں کی عزت نفس کا خیال رکھا ہے ایسا نہیں  ہےکہ نیب کا نام لے کر مائیں اپنے بچوں کو ڈرائیں۔

جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ کرپشن کے خلاف پہلی اینٹ ضرور رکھ دی ہے تاکہ عمارت تعمیر کی جا سکے، کرپشن کا خاتمہ ہماری پہلی ترجیح اور آخری منزل ہے، جب تک سب مل کر کام نہیں کریں گے تو بدعنوانی کا خاتمہ نہیں ہوسکے گا اس لیے سب سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں اور خوداحتسابی کےعمل سے خودکو گزاریں، اس روش کو اپنانے سے ہی کرپشن کو رفتہ رفتہ ختم کیا جا سکتا ہے۔ جاوید اقبال نے مزید کہا کہ بطور چیئرمین ہر وہ قدم اٹھایا جو ادارے کی بہتری کے لیے تھا ملک سے بہترین افراد کا انتخاب کیا اور ان کی خدمات حاصل کیں، نیب میں کسی قسم کی سفارش نہیں ہوتی صرف اور صرف میرٹ  کو برقرار رکھا جاتا ہے، اگر سفارش اور اقربا پروری کا اداروں میں خاتمہ ہوجائے تو ملک بہت جلد ترقی کرے گا۔
خبر کا کوڈ : 831115
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش