0
Friday 6 Dec 2019 22:21
پاکستان اور عمران خان ایک ساتھ نہیں چل سکتے

چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے عدالت جانا بہتر فیصلہ نہیں، کائرہ

زرداری کی ضمانت منظور ہوئی تو ملک میں رہ کر ہی علاج کرائیں گے
چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے عدالت جانا بہتر فیصلہ نہیں، کائرہ
اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما قمرالزماں کائرہ نے پارلیمنٹ کو مدر آف انسٹی ٹیوشن قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے عدالت میں جانا بہتر فیصلہ نہیں ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کو حکومت فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کو روکنے کے لیے الجھا رہی ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ آصف علی زرداری کی ضمانت کے لیے دائر کی گئی درخواست کسی ڈھیل کا حصہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سابق صدر پاکستان کی ضمانت منظور ہوئی تو وہ ملک میں ہی رہ کر علاج کرائیں گے بصورت دیگر ضرورت پڑنے پر بیرون ملک سے  ڈاکٹر کو بلائیں گے۔ سابق وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات قمر الزماں کائرہ نے موجودہ حکومت پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور عمران خان ایک ساتھ نہیں چل سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ملک کو بٹھا دیا ہے اور عوام موجودہ مہنگائی سے سخت تنگ ہیں۔ پی پی پی رہنما نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیب حکمرانوں سمیت فوج، عدلیہ، بیوروکریسی، تاجران اور اتحادی جماعتوں کا احتساب نہیں کر سکتی ہے۔

قمرالزماں کائرہ نے دعویٰ کیا کہ ملک میں اس وقت دو اقسام کے قوانین ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امرا اور غربا کے لیے علیحدہ علیحدہ قوانین ہیں۔ پی پی پی کے مرکزی رہنما نے کہا کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو عدلیہ نے طبی بنیادوں پر بیرون ملک جانے کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف صحتیاب ہوئے تو واپس آئیں گے۔ قمرالزماں کائرہ نے دعویٰ کیا کہ حکومت بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی ہے۔ صوبہ پنجاب کے حوالے سے انہوں ںے کہا کہ عثمان بزدار کو بے اختیار کرکے پنجاب کے حکومتی اختیارات چیف سیکریٹری اور بیورو کریسی کو دے دیے گئے ہیں۔ دلچسپ امر ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے دو اراکین کی تقرری کے لیے از خود سپریم کورٹ آف پاکستان میں گئی ہیں۔ متحدہ اپوزیشن کی جانب سے رہبر کمیٹی کے کنوینر اور جمیعت علمائے اسلام کے رہنما اکرم خان درانی نے عدالت عظمیٰ میں درخواست جمع کرائی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی میں الیکشن کمیشن کے سربراہ اور ارکان کے ناموں پر اگر اتفاقِ رائے نہ ہو سکے تو اس کے بعد کی صورتحال پر آئین کا آرٹیکل 213 خاموش ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان سے درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ وہ پانچ دسمبر کو چیف الیکشن کمشنر کی ریٹائرمنٹ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ممکنہ آئینی بحران سے نمٹنے کے لیے مناسب فیصلہ کرے۔
خبر کا کوڈ : 831185
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش