0
Sunday 8 Dec 2019 20:11

خیرپور، ضلع بھر میں جعلی صحافیوں کا لشکر میدان میں آگیا

خیرپور، ضلع بھر میں جعلی صحافیوں کا لشکر میدان میں آگیا
اسلام ٹائمز۔ سندھ کے خیرپور ضلع بھر میں جعلی صحافیوں کا لشکر میدان میں آنے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ جعلی صحافی مختلف اداروں میں 2 ہزار تا 5 ہزار روپے دے کر ویب چینل و اخبار کا کارڈ وصول کرکے سرکاری اداروں کے افسران کو بلیک میل کرنے اور اداروں کی بدنامی کا باعث بننے کے علاوہ ورکنگ جرنلسٹسوں کی ساکھ کوبھی متاثر کررہے ہیں، صحافتی کارڈ رکھنے والوں کو صحافتی اصولوں کے مطابق خبر سے متعلق معلومات تو دور کی بات خبر لکھنا بھی نہیں آتی۔ ذرائع کے مطابق خیرپور ضلع بھر میں 300 سے زائد ایسے لوگ ہیں جو مختلف اداروں، ویب ٹی وی چینلوں کے کارڈ ہولڈر ہیں، لیکن انہیں اپنے ہی ادارے کے متعلق آگاہی اور پالیسی و خبر بنانے تک کی معلومات و تربیت بھی نہیں ہے، ایسے افراد مختلف نجی و سرکاری اداروں میں ملازمت کرتے ہوئے اپنے افسران کو بلیک میل کرتے ہوئے پائے گئے ہیں۔ یہ جعلی صحافی فرائض کی انجام دہی سے غائب رہتے ہوئے گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کرنے والے افراد کے ساتھ دیگر سرکاری و پرائیویٹ اداروں کیخلاف خبر چلانے کے نام پر بھتہ وصول کرتے ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے وفاقی و صوبائی حکومت کی جانب سے ہدایت جاری کی گئی تھیں کہ سرکاری اداروں کے ملازمین صحافت نہیں کرسکتے لیکن ان حکومتی احکامات ہوا میں اڑاتے ہوئے شاہ عبداللطیف یونیورسٹی، خیرپور شوگر ملز، محکمہ تعلیم، محکمہ صحت، ورکس اینڈ سروسز، محکمہ وائلڈ لائف، واپڈا، اسکارپ، ایریگیشن، محکمہ بلدیات، محکمہ خوراک، محکمہ ریونیو سمیت دیگر سرکاری محکموں کے ملازمین نے ابھی تک مختلف میڈیا ہاؤسز، اخبارات اور ویب ٹی وی چینلوں کو ہزار روپے تا 10 ہزار روپے دے کر کارڈ حاصل کررکھے ہیں، جب کوئی ورکنگ جرنلسٹس مذکورہ اداروں میں صحافتی حوالے سے ادارے کے افسر سے موقف لینے جاتا ہے تو وہ ان کے مدمقابل کھڑے ہوکر پروفیشنل صحافیوں کے فرائض میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ حکومت اور عدالت عظمیٰ ایسے سرکاری ملازمین کی سرکاری ملازمت ختم کرکے غیر قانونی طریقے سے بنائی جانے والی جائیداد کی عدالتی تحقیقات کرائے تاکہ پروفیشنل صحافیوں کے شعبہ پر قدغن لگانے والے عناصر کا خاتمہ ہوسکے۔
خبر کا کوڈ : 831530
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش