0
Tuesday 10 Dec 2019 19:38

دعا منگی کے اغواکار تعلیم یافتہ اور جدید ٹیکنالوجی سے آگاہ تھے، پولیس ذرائع

دعا منگی کے اغواکار تعلیم یافتہ اور جدید ٹیکنالوجی سے آگاہ تھے، پولیس ذرائع
اسلام ٹائمز۔ شہر قائد کی پولیس نے دعا منگی کے اغوا میں ٹیکنالوجی سے آگہی رکھنے والے پڑھے لکھے ملزمان کے ملوث ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق پولیس کی تحقیقات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکیں، دعا منگی کے اغوا کار ماہرانہ انداز سے واردات کے بعد روپوش ہو گئے ہیں۔ تفتیش کرنے والے افسران کے مطابق اغوا کار گروہ میں ممکنہ طور پر 6 سے 7 ملزمان شامل ہیں، یہ لوگ ماضی کے خطرناک گروہوں کی طرح واردات کے بعد روپوش ہو جاتے ہیں۔ شعبہ قانون کی طالبہ دعا منگی کو 30 نومبر کی رات چار مسلح افراد نے اغوا کر لیا تھا، وہ اپنے دوست حارث سومرو کے ساتھ چائے کے ایک ڈھابے کے باہر چہل قدمی کر رہی تھیں۔ اغواکاروں نے حارث سومرو پر فائرنگ کر کے زخمی کر دیا تھا، انہیں گردن میں گولی لگی، جو سینے میں چلی گئی، وہ ابھی تک اسپتال میں زیرِ علاج ہیں، جہاں ڈاکٹروں نے ان کے مفلوج ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ پولیس ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ دعا منگی کو اغوا کرنے والے شاید وہی لوگ تھے، جنہوں نے بسمہ نامی لڑکی کو اغوا کیا تھا اور بھاری تاوان لے کر رہا کیا تھا۔
خبر کا کوڈ : 831946
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش