0
Wednesday 11 Dec 2019 21:35

آصف علی زرداری کی ضمانت پر رہائی حق کی فتح ہے، سعید غنی

آصف علی زرداری کی ضمانت پر رہائی حق کی فتح ہے، سعید غنی
اسلام ٹائمز۔ وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ لاہور میں وکلاء کی جانب سے اسپتال پر چڑھائی اور اس کے نتیجہ میں رپورٹ کے مطابق کچھ ہلاکتوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے وکلاء تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس پر اپنی ذمہ داری پوری کریں، نیب ایک تماشہ ہے کوئی ادارہ نہیں ہے، 6 ماہ تک خورشید شاہ کو بلاجواز گرفتار کرنے کے بعد اب انہیں جے آئی ٹی بنانے کا یاد آرہا ہے، آصف علی زرداری کی ضمانت پر رہائی حق کی فتح ہے، ہمیں امید ہے کہ 17 دسمبر کو فریال ٹالپور کی درخواست ضمانت پر بھی عدلیہ میرٹ پر فیصلہ کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا کے نمائندوں کو آصف علی زرداری کی ضمانت پر رہائی کی خوشی میں مٹھائی کھلانے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ قبل ازیں پیپلز پارٹی کے متعدد ارکان سندھ اسمبلی جن میں خواتین ارکان بھی شامل تھیں، انہوں نے صحافیوں کو مٹھائی کھلائی اور اپنے شریک چیئرمین کی ضمانت پر رہائی پر مبارکباد وصول کی۔

اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا کہ میں لاہور میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو لوجی پر ہونے والے واقعہ کی مذمت کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء ہمارے معاشرے کی ایک ذمہ دار برادری ہے اور انہیں قانون کا سب سے زیادہ ادراک ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں قانون کا سب سے زیادہ خیال رکھنا چاہیئے۔ سعید غنی نے کہا کہ آج میں تمام پاکستانی عوام کو مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ کے شکر سے آصف علی زرداری کی اسلام آباد ہائیکورٹ سے ضمانت منظور ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کئی روز سے کہتے آئیں ہیں کہ ضمانت ان کا حق ہے، لیکن چونکہ وہ خود ضمانت نہیں لینا چاہتے تھے اور وہ عمران نیازی کی ان کو جیل میں رکھنے کی خواہش اور ان کو توڑنے کی کوشش کا جواب دے رہے  تھے، لیکن جب آصف علی زرداری کے اہل خانہ اور پارٹی کی جانب سے ان سے استدعا کی گئی تو انہوں نے ضمانت کی درخواست پر آمادگی ظاہر کی اور آج عدلیہ نے ان کی بیماری کو پیش نظر رکھتے ہوئے میرٹ پر فیصلہ دیا اور انہیں ضمانت دی۔

سعید غنی نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ جس طرح میرٹ پر آصف علی زرداری کو ضمانت دی گئی ہے، 17 دسمبر کو فریال ٹالپور کی درخواست ضمانت پر بھی عدلیہ میرٹ پر فیصلہ کرے گی اور ایک خاتون اور دوسری جانب ان کی خصوصی بچی کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کو ضمانت دے گی۔ انہوں نے کہا کہ فریال ٹالپور پر کوئی الزام تاحال ثابت نہیں ہوا ہے اور نیب نے جو تحقیقات کرنا تھی، وہ بھی کرلی ہیں اور اب وہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں اور قانون کے مطابق کسی پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوتا تو اس کو جیل میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں بنتا اور اس کی ضمانت منظور ہونا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ آصف علی زرداری کا بیرون ملک جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، وہ یہاں ہی ملک میں رہ کر اپنا علاج کروائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ اس ملک میں نیب ایک ادارہ نہیں بلکہ تماشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب نے خورشید شاہ پر 500 ارب روپے کی کرپشن کا الزام عائد کرکے انہیں گرفتار کیا اور 6 ماہ کے دوران وہ کچھ ثابت نہیں کرسکے تو اب وہ اس پر جے آئی ٹی بنانے کا ڈرامہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج سندھ میں ایک ایسے متنازعہ شخص کو ڈی جی نیب تعینات کیا گیا ہے، جو ہمارے سیاسی مخالفین کا قریبی ساتھی ہونے کے ساتھ ساتھ آصف علی زرداری کی زبان کاٹنے کے کیس میں بھی ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس شخص کو نیب کا ڈی جی اس لئے بھی بنایا گیا ہے کہ میں ہمیشہ حسنین مرزا کی کرپشن پر اس کی گرفتاری کا مطالبہ کرتا ہوں تو اسے گرفتار نہ کر لیا جائے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ عدالتوں میں الزامات کا سامنا کیا ہے اور اب بھی کریں گے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری اور فریال ٹالپور کی گرفتاری غلط کیس بناکر کی گئی ہے اور جس فیک کیس کی بات کی جا رہی ہے، وہ کیس ہی غلط ہیں۔
خبر کا کوڈ : 832143
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش