0
Thursday 12 Dec 2019 13:07

روہنگیا مسلمانوں نے آنگ سانگ سوچی کے نسل کشی سے متعلق بیان مسترد کر دیا

روہنگیا مسلمانوں نے آنگ سانگ سوچی کے نسل کشی سے متعلق بیان مسترد کر دیا
اسلام ٹائمز۔ روہنگیا مسلمانوں نے نوبل انعام یافتہ نام نہاد سابقہ جمہوریت پسندی کی علامت آنگ سانگ سوچی کی عالمی عدالت انصاف میں میانمار کی حیثیت  سے اپنے ملک میں مسلمانوں کی نسل کشی کو مفروضہ قرار دینے کے بیان کو مسترد کر دیا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق روہنگیا مسلمانوں پر میانمار کی سرکاری فوج کے مظالم اور نسل کشی کی وجہ سے ملک چھوڑ کر بنگلادیش کی سرحد پر پناہ لینے والے اراکان روہنگیا سوسائٹی برائے امن و انسانی حقوق کے چیئرمین محمد محب اللہ نے خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آنگ سانگ سوچی کا عالمی عدالت انصاف میں دیا گیا بیان حقیقت کے منافی ہے۔

کاکس بازار میں پناہ گزینوں کے کیمپ میں نیوز ایجنسی سے بات چیت میں محب اللہ نے کہا کہ چور کبھی اپنی چوری کا اعتراف نہیں کرتا لیکن شواہد اور ثبوتوں سے انصاف ممکن ہے، عالمی برادری ہم سے سرکاری فوج کے مظالم اور روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے ناقابل تردید ثبوت حاصل کر سکتے ہیں۔ محب اللہ نے کہا کہ دنیا ثبوتوں کے بغیر آنگ سانگ سوچی کے دعوؤں کا فیصلہ نہیں کرے گی، ہمارے پاس ثبوت ہیں جو دنیا حاصل کر سکتی ہے، یہاں تک کہ اگر آنگ سانگ سوچی جھوٹ پر جھوٹ بولتی ہے تو بھی انہیں بخشا نہیں جائے گا، انہیں یقیناً انصاف کا سامنا کرنا پڑے گا اور دنیا کو بھی اس کے خلاف اقدامات اٹھانے چاہیے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز عالمی عدالت انصاف میں  آنگ سانگ سوچی نے  میانمار کی سربراہ کی حیثیت سے اپنے ملک میں ہونے والے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا دفاع کیا تھا، انہوں نے کہا کہ 2017ء میں ہونے والے فسادات ہمارا اندرونی معاملہ ہے، کیا ایسے ملک میں نسل کشی کا تصور کیا جا سکتا ہے جہاں غیرقانونی عمل پر فوج کے آفیسرز اور اہلکاروں سے نہ صرف تفتیش کی جاتی ہے بلکہ انہیں کڑی سزائیں بھی دی گئیں۔ رکھائن کا معاملہ پیچیدہ ہے جہاں روہنگیا اقلیت کو کچھ مشکلات کا سامنا بھی ہے انہیں 2017ء میں ہونے والے فسادات کے نتیجے میں لاکھوں افراد کے بنگلادیش میں پناہ لینے کا علم ہے اور ان کی حالت زار پر افسوس بھی ہے۔
خبر کا کوڈ : 832280
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش