0
Thursday 12 Dec 2019 13:42

مقبوضہ کشمیر میں غیر یقینی صورتحال جاری، انٹرنیٹ سہولیات بدستور معطل

مقبوضہ کشمیر میں غیر یقینی صورتحال جاری، انٹرنیٹ سہولیات بدستور معطل
اسلام ٹائمز۔ مقبوضہ کشمیر میں چاہ ماہ سے غیریقینی صورتحال جاری ہے اور غیر اعلانیہ ہڑتال کے بیچ شہر و گام کے تعلیمی ادارے بند ہیں۔ گزشتہ 129 روز سے وادی کشمیر میں انٹرنیٹ سہولیات منقطع رہنے سے ہزاروں کی تعداد میں وائٹس اپ اکاونٹ بند ہوگئے ہیں۔ بھارتی حکومت کے 5 اگست کے جموں و کشمیر کو دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کی تنسیخ اور ریاست جموں و کشمیر کو دو وفاقی حصوں میں منقسم کرنے کے فیصلے کے خلاف کشمیر بھر میں ہر سو غیر یقینی صورتحال سایہ فگن ہوکر غیر اعلانیہ  ہڑتالوں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا، جو تاحال جاری ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کے اس مطالبے کہ دفعہ 370 کے تحت وادی کشمیر کو حاصل خصوصی درجے کو بحال کیا جائے بھاجپا کا کہنا ہے کہ دفعہ 370 کی واپسی ناممکن ہے۔ وادی کشمیر میں مواصلاتی خدمات مع انٹرنیٹ اور موبائل سروس کے ساتھ ساتھ ریل سروس بھی معطل ہے۔ تمام حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ نجی ادارے و تمام تعلیمی ادارے بند ہیں۔ مواصلاتی بریک ڈاون کے نتیجے میں تاجروں، طلباء اور صحافیوں کو شدید مشکلات کا سامنا درپیش ہے۔ صحافیوں کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی مسلسل معطلی کے باعث انہیں اپنے دفتروں کے بجائے میڈیا سنٹر میں دن بھر دس منٹ اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ درایں اثنا سرینگر کی تاریخی و قدیم جامع مسجد میں مسلسل 18ویں نماز جمعہ پر پابندی جاری رہی اور نمازوں کو جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے سے روکا گیا۔ تمام سیاسی و دینی رہنماوں کو جیلوں میں قید رکھا گیا ہے اور انکی رہائی کی ابھی تک کوئی خبر سامنے نہیں آرہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق چار مہینے بعد بھی وادی کشمیر کے یمین و یاسر میں معمولات زندگی جوں کی توں رہی۔
 
خبر کا کوڈ : 832300
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش