0
Thursday 12 Dec 2019 13:44

چار ماہ کے دوران کشمیر کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے، رپورٹ

چار ماہ کے دوران کشمیر کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے، رپورٹ
اسلام ٹائمز۔ 5 اگست کو دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی اور جموں و کشمیر کی تقسیم اوت تنظیم نو سے متعلق بلوں کو بھارتی پارلیمان میں پیش اور منظور کئے جانے کے پیش نظر عائد کردہ سخت بندشوں، مواصلاتی بریک ڈاؤن اور بعد ازاں شروع ہونے والے غیر اعلانیہ ہڑتال نے کشمیر کی معیشت کو تباہ کردیا ہے۔ معیشت سے وابستہ طبقات کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران کشمیر کی معیشت کو ہزاروں کروڑ روپیے کا نقصان پہنچا ہے۔ تاجروں، ہوٹل مالکان، سیاحتی صنعت سے جڑے طبقوں اور کارخانہ داروں و یونٹ ہولڈروں کا کہنا ہے کہ 5 اگست کے بعد سے مسلسل دو ماہ تک وہ اپنی کاروباری سرگرمیاں انجام نہ دے سکے۔ اس دوران محکمہ سیاحت کی جانب سے گزشتہ چار ماہ سے جاری صورتحال کے حوالے سے ایک رپورٹ مرتب کی گئی ہے۔ مذکورہ رپورٹ میں محکمہ سیاحت نے اس بات کا سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ اگست سے تومبر تک کشمیر آنے والے سیاحوں کی تعداد میں 87 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران صرف 32 ہزار ملکی و غیر ملکی سیاح کشمیر وارد ہوئے، جبکہ گزشتہ برس اسی مدت یعنی اگست سے نومبر تک 2 لاکھ 59 ہزار سیاح ہی کشمیر آئے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ چار ماہ کے دوران کشمیر کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 832301
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش