0
Friday 13 Dec 2019 11:34

ایران ہر روز 4 ہزار بیلسٹک میزائل فائر کرنیکی صلاحیت رکھتا ہے، عالمی تجزیہ نگار

ایران ہر روز 4 ہزار بیلسٹک میزائل فائر کرنیکی صلاحیت رکھتا ہے، عالمی تجزیہ نگار
اسلام ٹائمز۔ ممتاز عرب اخبار رأی الیوم میں لکھنے والے ماہر تجزیہ نگار زین العابدین عثمان اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ امریکہ و اسرائیل کیطرف سے اسلامی جمہوریہ ایران اور اسلامی مزاحمتی محاذ کو ملنے والی گرما گرم دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کی وجہ سے دونوں فریقین کے درمیان بڑی جنگ چھڑنے کا امکان بھی پوری طرح سے موجود ہے، خاص طور پر جب امریکہ نے اس خطے کو اپنے بحری بیڑوں، جنگی سازوسامان اور میزائل سسٹمز کیساتھ مکمل طور پر بھرنا شروع کر دیا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ مندرجہ بالا وجوہات کی بناء پر خطے میں جنگ چھڑنے کے امکانات پائے جاتے ہیں، لیکن جو بات اہم ہے وہ یہ کہ اسلامی جمہوریہ ایران جو اسلامی مزاحمتی محاذ کیساتھ ملکر اس معرکے کا ایک فریق ہے، دفاعی اور تہاجمی حوالے سے اس خطے کی سب سے بڑی طاقت سمجھا جاتا ہے اور اپنے خاص اسٹریٹیجک محل وقوع اور فوجی طاقت کی بناء پر امریکہ و اسرائیل کیطرف سے ہونے والے حملوں کا بخوبی جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ ایران کا یہ جواب، حملہ آوروں کے ایرانی حدود میں داخل ہونے پر آٹومیٹک انداز میں بطور خودکار شروع ہو جائے گا۔

اسلامی جمہوریہ ایران پر امریکہ و اسرائیل کی طرف سے کسی بھی قسم کی جارحیت کی صورت میں ایران روزانہ کے حساب سے 4000 بیلسٹک میزائل فائر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، کیونکہ پورے ملک میں ایران کے پاس ایسے سینکڑوں میزائل لانچرز تیار حالت میں موجود ہیں، جن کو فائر کرنے کیلئے صرف ایک بٹن دبانے کی ضرورت ہے، جس کے نتیجے میں تاریخ میں فائر ہونے والے میزائلوں کے کسی بھی ریکارڈ سے بڑھ کر میزائل فائر ہو جائیں گے اور امریکی و اسرائیلی انتہائی اہم اقتصادی، دفاعی و ایٹمی مراکز پر جا گریں گے، لہذا یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران غاصب صیہونی رژیم اسرائیل کو چند گھنٹوں کے اندر اندر مکمل طور پر تباہ و برباد کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔

زین العابدین عثمان لکھتے ہیں کہ آج اسلامی جمہوریہ ایران اپنے ترقی یافتہ میزائل پروگرامز اور وار ٹیکنالوجیز کے ذریعے غاصب صیہونی رژیم اسرائیل اور اس کی بنائی گئی غاصب صیہونی بستیوں کو کچھ ہی منٹوں میں مٹی کے ڈھیر میں بدلنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے، حتیٰ اس کے جواب میں امریکہ سے لئے گئے ڈیفنس سسٹمز کے باوجود اسرائیل کچھ بھی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایرانی جوابی کارروائی اس کے اپنے بنائے گئے ترقی یافتہ وار فیئرز پر مبنی ہوگی، جو صرف بیلسٹک اور زمین سے فضا اور سمندر میں مار کرنے والے میزائلوں تک ہی محدود نہیں بلکہ ایران کے پاس آج ایسے خفیہ سسٹمز بھی موجود ہیں، جو الیکٹرانک و سائبر وار میں بھی چینی یا کوریائی ٹیکنالوجی سے کسی طرح کم نہیں، لہذا ہمارا ماننا یہ ہے کہ اسرائیل اپنی تمامتر عسکری طاقت اور ٹیکنالوجی کے باوجود ایران کے مقابلے میں ایک کاغذی شیر کے مانند ہے، جو اسکا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اسرائیل ایران کیساتھ مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور جنگی حالات کا پانسہ بھی اپنے حق میں پلٹ سکتا ہے، کیونکہ اس کے پاس ایٹمی ہتھیار اور اسٹریٹیجک جنگی بحری بیڑے موجود ہیں، جنہیں "ختس-2 اور 3" اور امریکی "ٹاڈ سسٹمز" کیساتھ اپ گریڈ بھی کیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کیا یہ تمام سسٹمز ایران اور اس کے روزانہ فائر ہونے والے 4000 بیلسٹک میزائلوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے؟ انکے اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ہم سب ہی یہ جانتے ہیں کہ امریکہ و اسرائیل کی طرف سے تاحال ایران پر حملہ نہ کئے جانے کی اصلی وجہ امریکہ و اسرائیل کے پاس ایرانی جوابی حملوں کو روکنے کے قابل ٹیکنالوجی کا نہ ہونا ہے، جبکہ امریکی و اسرائیلی زرّاد خانے اور عسکری ٹیکنالوجی اپنی تمامتر ترقی کے باوجود کسی بھی براہِ راست جنگ میں ایران جیسے طاقتور ملک پر غالب نہیں آسکتی۔
خبر کا کوڈ : 832427
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش