0
Saturday 14 Dec 2019 13:54

دفعہ 370 کی واپسی کا فیصلہ غیر موزوں تھا، وکلاء

دفعہ 370 کی واپسی کا فیصلہ غیر موزوں تھا، وکلاء
اسلام ٹائمز۔ ریاست جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ واپس لینے کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ میں جرح کا سلسلہ جاری رہا۔ وکلاء نے بھارتی حکومت کے فیصلے کو جموں و کشمیر کی عوام کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت کو اپنا فیصلہ واپس لیکر کشمیر کا خصوصی درجہ اسی طرح بحال کرنا چاہیئے جس طرح سے وہ پہلے ملک کے آئین میں موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کی اس کارروائی سے کشمیر میں امن، خوشحالی، ترقی کے ساتھ ساتھ بھارت کیساتھ کشمیریوں کی وابستگی مضبوط و مستحکم ہوگی۔ وکیلوں نے بھارتی حکومت کے فیصلے کو غلط قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ آف انڈیا نے دفعہ 370 کو واپس لینے دفعہ 35 اے کو منسوخ کرنے اور جموں و کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے سلسلے میں جنوری میں حکومت کو اپنے عذرات پیش کرنے کی ہدایت کی 370 کے بارے میں داخل کی گئی عرضیوں کی شنوائی اب سپریم کورٹ آف انڈیا میں سرمائی تعطیلات ختم ہونے کے بعد ہوگی۔ اے پی آئی نمائندوں کے مطابق عدالت عظمیٰ میں دفعہ 370 کو آئین ہند سے ہذف کرنے اور مواصلاتی نظام کی معطلی کے سلسلے میں دائر کی گئی عرضیوں کی شنوائی کے دوران وکلاء نے عدالت عظمٰی کے پانچ رکنی آئینی بینچ کے سامنے دلائل پیش کرتے ہوئے نہ صرف کشمیر کی تاریخی حیثیت کو اجاگر کیا بلکہ 5 اگست کو بھارتی حکومت کی جانب سے لئے گئے فیصلے کو غیر موزوں قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 کے خاتمے کی وجہ سے کشمیری عوام کے دلوں میں اضطراب کی کیفیت طاری ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 832681
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش