0
Saturday 14 Dec 2019 16:09

پی آئی سی سانحہ، وزیراعلیٰ کی ہدایت کے باوجود پولیس نے سُستی دکھائی، انکشاف

پی آئی سی سانحہ، وزیراعلیٰ کی ہدایت کے باوجود پولیس نے سُستی دکھائی، انکشاف
اسلام ٹائمز۔ لاہور میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سانحہ کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔ واقعہ کی ذمہ دار لاہور پولیس نکل آئی، اطلاع کے باوجود پولیس نے کوئی احتیاطی تدابیر اخیتار نہیں کیں۔ پولیس کی جانب سے ایکشن میں تاخیر پر وزیراعلی پنجاب کو خود ایکشن لینا پڑا۔ بدھ کے روز وکلاء نے پی آئی سی پر حملہ کیا، اس حملے کے پس پردہ مقاصد کی کھوج تاحال لگائی جا رہی ہے جبکہ وزیراعلیٰ نے بھی ایک تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا حکم دیدیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلی پنجاب اسلام آباد میں موجود تھے جب ان کو پی آئی سے پر حملے کی اطلاعی دی گئی۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اسلام آباد سے لاہور پولیس کو وکلا کو روکنے کی ہدایات جاری کیں۔ وزیراعلی نے ٹی وی پر دیکھ کر چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پولیس پنجاب کو احکامات جاری کیے، جس پر لاہور پولیس کے اعلی افسران کو فوری موقع پر پہنچنے کی ہدایت کی گئی۔
 
وزیراعلی پنجاب نے پولیس کے تاخیر سے فیصلہ کرنے پر آئی جی سے برہمی کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلی کے احکامات کے بعد بھی سی سی پی او وقوعہ پر نہ پہنچے جبکہ ڈی آئی جی دو گھنٹے کی تاخیر سے پہنچے۔ ایس پی سکیورٹی نے بھی واقعے کی سنگینی کو نہ جانا اور کم اہلکار تعینات کیے۔ ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر پی آئی سی پر اینٹی رائٹ فورس کی صرف پانچ ریزرو تعینات تھیں، جبکہ معاملہ خراب ہونے پر مزید طلب کی گئی نفری ایک گھنٹہ کی تاخیر سے پہنچی۔ پی آئی سی حملہ کیس میں ابھی بہت سے حقائق منظرعام پر آنا باقی ہیں، لیکن جہاں پولیس افسران کو وزیراعلی نے فوری پہنچنے کے احکامات جاری کیے وہیں پولیس افسران گھنٹوں بعد معاملہ ٹھنڈا ہونے پر پی آئی سی پہنچے، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پنجاب میں انتظامی معاملات کس طرح چلائے جا رہے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 832719
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش