0
Sunday 15 Dec 2019 09:47

اسی حکومت میں کشمیر کا مسئلہ حل ہو گا، علی امین گنڈاپور

اسی حکومت میں کشمیر کا مسئلہ حل ہو گا، علی امین گنڈاپور
اسلام ٹائمز۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں میزبان سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ میرا ایمان ہے کہ اسی حکومت میں کشمیر کا مسئلہ حل ہو گا، مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچا، بی آر ٹی ڈیزائننگ میں فرق آنے سے لاگت بڑھی ہے، غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ علی امین گنڈا پور نے کہا کہ 130 دن پورے ہو چکے ہیں، انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں سب کچھ بند کیا ہوا ہے، میڈیا کے جانے پر پابندی عائد ہے ہمیں جو رپورٹس آ رہی ہیں اس کے مطابق تقریباً 10 ہزار نوجوانوں کو انہوں نے گرفتار کیا ہوا ہے اور مختلف جگہوں پر منتقل کر دیا گیا ہے، اس کے علاوہ بہت سے لوگوں کو شہید بھی کر دیا گیا ہے اور وہاں پر آل پارٹیزحریت کانفرنس کی جو قیادت ہے اس کو بھی نظربند کر دیا گیا ہے، جبکہ کرفیو بدستور قائم ہے، تھوڑی بہت نرمی کرتے ہیں تو عوام کی بڑی تعداد نکل کر احتجاج کرتی ہے جس کو دیکھ کر وہ گھبرا کر دوبارہ کرفیو لگا دیتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم، وزیر خارجہ، اسپیکر قومی اسمبلی، وزرا، ایم این ایز مستقل عالمی برادری کے سامنے کشمیر کا مسئلہ اجاگر کر رہے ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ 72 سال سے چل رہا ہے اور درمیان میں اس میں ایک بہت بڑا خلا آ گیا تھا اور درمیان میں نسل آ گئی جس کو پتہ ہی نہیں تھا کے کشمیر کا مسئلہ ہے کیا اور ہم نے جو ایک معاہدہ کیا جو ہم نے خود ہی کہہ دیا کہ یہ دو طرفہ مسئلہ ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان، کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، 10 لاکھ مسلح فوج ایک لاکھ افراد کو شہید کر چکی ہے، خواتین سے زیادتی کر رہی ہے، پلیٹ گن کا استعمال کر رہی ہے جس سے کثیر تعداد میں شہری نابینا ہو گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ مودی کے اقدام کے بعد کشمیر کا مسئلہ عالمی سطح پر اجاگر ہو گیا ہے اور آج بہت سے انسانی حقوق کے اداروں نے کھلم کھلا کہنا شروع کر دیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تاریخ کی بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے جبکہ مودی حکومت نے انسانی حقوق کی تنظیموں کو حقائق جاننے کے لئے داخلے پر بھی پابندی عائد کی ہوئی ہے۔ وزیراعظم کے UN میں خطاب کا پوری دنیا کے سامنے زبردست پیغام گیا ہے عمران خان نے یو این میں بہت سخت موقف اختیار کیا اس کے بعد بھی ہماری حکومت نے ہر فورم پر کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کیا ہے جبکہ وزیر خارجہ نے دنیا کے تمام وزرائے خارجہ سے مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں ملاقاتیں کی ہیں۔ ہم نے او آئی سی کا اجلاس بلانے کا بھی مطالبہ کیا ہے، درمیان میں مولانا فضل الرحمٰن 27 تاریخ کو یوم سیاہ والے دن کھڑے ہو گئے انہوں نے اپنے دھرنے کا اعلان کر دیا جس کے بعد جو خلا پیدا ہوا اس کی وجہ سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک کے درمیان ثالثی ہم اس لئے کر رہے ہیں کے ہمارے ان کے ساتھ تعلقات ہیں، ہمارے ان کے ساتھ بہت سے مفادات بھی جڑے ہوئے ہیں، ہمارے وزیراعظم کو انہوں نے خوش آمدید کہا ہے۔ مودی کو دیے جانے والے ایوارڈ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کو دیے جانے والے ایوارڈ کا وقت کا تعین غلط تھا ان کے اپنے ملک میں بھی اس پر ردعمل آیا ہے لیکن ہر ملک کی اپنی پالیسی ہے، معیشت کے مفادات ہیں، ایران ہمارا ہمسایہ ملک ہے جب کہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارے مذہبی جذبات وابستہ ہیں، اگر کشمیر میں 72 سال سے جاری انڈیا کے ظلم و ستم کے باوجود اس پر بین الاقوامی سطح پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوئی تو اس کا مطلب ہے اس کی ڈپلومیسی ہم سے بہت بہتر تھی، کشمیر کے مسئلے پر اس نے بہت بہتر طریقے سے کام کیا اور آج بھی کر رہا ہے لیکن عمران خان نے مودی کی پارٹی اور اس کا نظریہ پوری دنیا کے سامنا عیاں کر دیا ہے اور ساری دنیا نے اس کو مانا بھی ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اگر آج امریکا انڈیا کو سپورٹ کر رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حالات ہمیشہ ایسے ہی رہیں گے، آنے والے وقت میں حالات تبدیل بھی ہو سکتے ہیں اور امریکا ہمارے ساتھ بھی کھڑا ہو سکتا ہے۔ میرا ایمان ہے کہ اسی حکومت میں کشمیر کا مسئلہ حل ہو گا آج آپ کے بہت سے ادارے کھڑے ہو گئے ہیں اور بہت سے ممالک بھی اس پر بات کر رہے ہیں اور انشاءاللہ ہم اس میں کامیاب ہو جائیں گے۔
خبر کا کوڈ : 832844
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش