0
Sunday 15 Dec 2019 22:22

امریکہ اپنے اور اسرائیلی مفادات کے حصول کیلئے لبنان پر مسلط ہونا چاہتا ہے، شیخ دعموش

امریکہ اپنے اور اسرائیلی مفادات کے حصول کیلئے لبنان پر مسلط ہونا چاہتا ہے، شیخ دعموش
اسلام ٹائمز۔ لبنان کی اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کی ایگزیکٹو کمیئی کے نائب چیئرمین شیخ دعموش نے لبنان کے اندرونی معاملات میں کھلی امریکی مداخلت کیطرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکومت لبنان پر اقتصادی دباؤ ڈالنے کیلئے تمامتر رستے استعمال کر رہی ہے تاکہ لبنانی عوام کو ایکدوسرے کیخلاف مشتعل کر کے اسلامی مزاحمتی محاذ کو سیاسی اور اجتماعی حوالے سے کمزور کرے اور یوں اُسے بین الاقوامی سطح پر دیوار سے لگا دے لیکن اُسے یہ جان لینا چاہئے کہ ہمارے خلاف جو اہداف جنگ کے ذریعے وہ حاصل نہیں کر پایا وہ اقتصادی کشمکش کے ذریعے بھی حاصل نہیں کر پائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر بعض لبنانی باشندے اسلامی مزاحمتی محاذ کے خلاف امریکیوں کے آلۂ کار بننا اور اسرائیل کیساتھ دوستانہ تعلقات بحال کرنا چاہتے ہیں تو وہ بھی یہ جان لیں کہ لبنانی عوام کی اکثریت اسرائیل کیساتھ عام دوستانہ تعلقات استوار کرنے کی مخالف ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ امریکہ نہ صرف یہ کہ لبنانی قوم کے مفاد کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھاتا بلکہ لبنان سمیت پورے خطے میں غاصب صیہونی رژیم اسرائیل کے مفاد کیلئے ہمیشہ سے سرگرم رہا ہے۔

شیخ دعموش نے کہا کہ لبنانی قوم وہی ہے جس نے اپنی مزاحمت کے ذریعے اسرائیل کا نہ صرف مقابلہ کیا بلکہ اسی مزاحمت کے ذریعے اُسے شکست بھی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنانی قوم ہمیشہ سے فلسطینی قوم اور انکے حقوق کی حامی اور اپنے مشترکہ دشمن کیساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنے کی مخالف رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ افراد جو اسرائیل کیخلاف لڑنے والے لبنان و فلسطین کے دسیوں ہزار شہداء و زخمیوں کے خون اور فداکاریوں کو پائمال کرنا چاہتے ہیں انتہائی کم اور معاشرے کے دھتکارے ہوئے لوگ ہیں جبکہ اسرائیل کیساتھ تعلقات کی استواری کیخلاف خود بخود بلند ہونے والی دیرپا للکاریں ہم نے خود لبنان کے مرکز سے سنی ہیں جنہیں بلند کرنے والے لوگوں نے بحرینی نام نہاد علماء کیطرف سے صیہونی خاخام کو مدعو کر کے اسرائیل کیساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنے کیلئے منعقد کیجانے والی کانفرنس میں بھی موجود رہ کر اسکی مخالفت کی ہے۔

حزب اللہ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے نائب چیئرمین شیخ دعموش نے کہا کہ لبنان میں موجود سفارتخانوں کا وہ عملہ جو لبنانی عوام کو اسرائیل کیساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنے کی دعوت دیتا ہے جان لے کہ مملکتِ لبنان اسلامی مزاحمتی محاذ کا قلعہ ہے جس میں انہیں کسی قسم کی حیثیت حاصل نہیں اور نہ ہی وہ لبنانی عوام کے دردمندانہ اجتماعی و اقتصادی مطالبات سے اپنے آقاؤں کیلئے کوئی ناجائز فائدہ اٹھا پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نہ صرف ہمیشہ سے اپنے اور اسرائیلی مفادات کے حصول کیلئے لبنان پر مسلط ہونے کیلئے سرگرم رہا ہے بلکہ اسکے نزدیک لبنانی مفاد کی بھی کوئی اہمیت نہیں۔
خبر کا کوڈ : 832929
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش