0
Wednesday 8 Jan 2020 23:51

مغربی ایشیاء میں '' امریکی پینٹاگون'' کی نابودی

مغربی ایشیاء میں
اسلام ٹائمز۔ پاسداران انقلاب اسلامی کی جانب سے گذشتہ شب عراق میں جس امریکی فوجی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، اسے مغربی ایشیاء میں ''امریکی پینٹاگون'' کی حیثیت حاصل تھی۔ 2003ء میں یہ قدسیہ کے اڈے کے نام سے جانا جاتا تھا۔ یہ عراق کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ 1967ء اور 1973ء کی عرب جنگوں کے بعد 1975ء میں بنانے کا فیصلہ ہوا تھا۔ عین الاسد اڈا عراق کے رمادی صوبے سے ایک سو سات کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ یہ اڈا 2003ء میں عراق پر حملے کے بعد سے اب تک امریکی فوج کے زیر استعمال ہے۔ پانچ کلومیٹر طویل رقبے پر مشتمل اڈہ امریکی آپریشنز اینڈ اینٹلی جنس کمانڈ کا سب سے بڑا اور مغربی ایشیاء کا سب سے اہم سائبر اینٹلی جنس سنٹر بھی ہے۔ عین الاسد ہوائی اڈے کی تعمیر پر چار سے پانچ سال لگے، جو کہ پانچ کلومیٹر کے رقبے پر مشتمل ہے، بغداد ایئرپورٹ کے بعد عراق کا دوسرا سب سے بڑا اڈا ہے، جہاں امریکی فوج کا جدید ترین سامان حرب، ریڈار سسٹم، ڈرون سکوارڈن سمیت لگژری سہولیات اور خدمات موجود ہیں۔

عراق میں امریکی دارالحکومت
عین الاسد اڈے پر لگ بھگ 6 ہزار امریکی و اتحادی فوجی موجود ہیں، عالمی ذرائع ابلاغ نے الاسد ہوائی اڈے کو عراق میں امریکی دارالحکومت سے بھی تشبیہ دی ہے۔ عین الاسد کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ امریکیوں نے کبھی بھی اس اڈے سے دستبرداری کا اعلان تک نہیں کیا۔ گذشتہ سال جب عراق سے امریکی فوجیوں کا انخلا شروع ہوا تو عین الاسد پر ہزاروں فوجی بدستور تعینات رہے۔ حال ہی میں امریکی صدر نے عراق کا غیر اعلانیہ دورہ کیا تو انہوں نے پہلی فرصت میں ہی عین الاسد اڈے کا رخ کیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق عین الاسد ایئرپورٹ پر صیہونی فوجی اہلکاروں کو بھی کثیر تعداد میں تعینات کیا گیا ہے، مشرق وسطیٰ میں صیہونی سازشوں اور کارروائیوں کے تانے بانے عین الاسد اڈے سے بھی جا ملتے ہیں۔

اس ہوائی اڈے میں فضائی دفاع کی ایک فورس اور ایئر کنٹرول ٹاور بھی ہے، جو ریڈاروں سے لیس ہے۔ یہ تین کلومیٹر لمبے رن وے پر مشتمل ہے۔ 2003ء کے بعد امریکہ نے اس اڈے پر اربوں ڈالر خرچ کیے اور کئی طرح کی تبدیلیاں کیں۔ عراقی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس اڈے کی اہمیت معاشی نقطہ نظر سے اور بھی مسلمہ ہے، کیونکہ یہ اڈا اس علاقے میں واقع ہے، جو گیس اور تیل کے وسیع ذخائر سے مالا مال ہے، یہ ذخائر روس اور قطر کے مجموعی ذخائر سے کئی گنا زیادہ ہے۔ سردار مقاومت شہید قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس پر حملہ بھی اسی اڈے سے کیا گیا تھا۔ پاسداران انقلاب اسلامی نے انتقام کے پہلے مرحلے میں گویا مشرق وسطیٰ میں امریکی پینٹاگون کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔

امریکی میزائل ڈیفنس سسٹم کیوں ناکام رہا؟
پاسداران انقلاب نے عراق میں امریکی اڈوں کو فتح 313 میزائل سے نشانہ بنایا۔ آپریشن کا اہم نکتہ یہ تھا کہ جدید ترین امریکی دفاعی نظام میزائلوں کا پتہ لگانے میں ناکام رہا، جس کی ایک وجہ فتح 313 میزائلوں کی انتہائی تیز رفتاری تھی، جس کیوجہ سے دفاعی اور پیشگی اطلاعی نظام مکمل طور پر ناکام رہا۔ رپورٹ کے مطابق آپریشن کا سب سے اہم نکتہ جسے پہلی مرتبہ منظر عام پر لایا گیا، وہ یہ تھا کہ میزائلوں میں ریڈار میں خلل ڈالنے والا نظام موجود تھا۔ اس نظام کی وجہ سے تمام میزائل ٹھیک نشانے پر لگے اور امریکہ کا جدید ترین دفاعی نظام ناکامی سے دوچار ہو کر رہ گیا۔

واضح رہے کہ ایران کی جانب سے شہید سردار مقاومت قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کا پہلے ہی اعلان کیا گیا تھا، جس کے بعد پورے خطے میں موجود امریکی فوج، دفاعی نظام اور میزائل یونٹ پوری طرح چوکس تھے۔ اس کے باوجود فتح سیریز کے درجنوں میزائلوں نے سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کامیابی کے ساتھ طے کرکے عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو تہس نہس کرکے رکھ دیا۔ یاد رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے شام میں داعش دہشتگردوں کیخلاف کارروائی میں بھی اسی قسم کے میزائل کو استعمال میں لایا گیا تھا۔
خبر کا کوڈ : 837341
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش