0
Thursday 16 Jan 2020 14:14

سال 2019ء، سعودی عرب میں پاکستانیوں سمیت ریکارڈ تعداد میں قیدیوں کے سرقلم

سال 2019ء، سعودی عرب میں پاکستانیوں سمیت ریکارڈ تعداد میں قیدیوں کے سرقلم
اسلام ٹائمز۔ سعودی عرب نے سال 2019ء میں ریکارڈ تعداد میں قیدیوں کو پھانسی دی، جن میں پاکستانی بھی شامل ہیں، جبکہ 2020ء میں اب تک چار افراد کو پھانسی دی جاچکی ہے۔ تفصیلات کے مطابق انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے برطانوی ادارے ریپریو کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب نے 2019ء میں سب سے زیادہ 184 قیدیوں کو پھانسی دی، جن میں 88 سعودی شہری اور 90 غیر ملکی شہری بھی شامل تھے۔ سزائے موت پانے والے غیر ملکیوں میں سب سے زیادہ پاکستانی شامل ہیں، 82 کو منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں اور 57 کو قتل کے ارتکاب پر پھانسی دی گئی۔ 3 اپریل 2019ء کو سعودی سلطنت نے ایک ہی دن میں 37 افراد کے سرقلم کر دیئے تھے، جن میں تمام افراد سعودی شہری تھے، جبکہ 2015ء میں بھی پھانسیوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے مقابلے میں 2014ء میں 88 افراد کو پھانسی دی گئی جبکہ 2016ء میں 158 افراد کو پھانسی دی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا گذشتہ چھ سال میں جب سے اس ادارے نے اس قسم کے اعداد و شمار کا حساب رکھنا شروع کیا ہے، 2019ء سب سے زیادہ خونی سال ثابت ہوا جبکہ 2020ء میں اب تک چار افراد کو پھانسی دی جاچکی ہے۔ خیال رہے کہ سعودی عرب اور خاص طور پر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو صحافی جمال خشوگی کے قتل سے متعلق تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یاد رہے اپریل 2018ء میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ملک میں سر قلم کیے جانے کی سزا میں کمی کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ حکومت نے سزائے موت کے دائرہ کار کو محدود کرنے اور عمر قید سمیت دیگر متبادل سزاؤں کو متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں اب بھی تلوار سے سرقلم کرکے سزائے موت دینے کا طریقہ رائج ہے اور عموماً جمعہ کے روز نماز جمعہ کے بعد مجرموں کا کھلے عام سر قلم کیا جاتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 838849
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش