0
Wednesday 22 Jan 2020 11:20

میانمار کی فورسز نے روہنگیا کے خلاف ممکنہ طور پر جنگی جرائم کیے، کمیشن

میانمار کی فورسز نے روہنگیا کے خلاف ممکنہ طور پر جنگی جرائم کیے، کمیشن
اسلام ٹائمز۔ میانمار حکومت کی جانب سے قائم کیا گیا آزادانہ کمیشن اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ یہ ماننے کے لیے وجوہات موجود ہیں کہ مزاحمت کرنے والوں کے خلاف کیے گئے آپریشنز میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا جس کی وجہ سے 7 لاکھ روہنگیا مسلمانوں کو پڑوسی ملک بنگلہ دیش جانا پڑا۔ تاہم کمیشن کے سربراہ فلپائنی سفارتکار نے صدر ون مینٹ کو دی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ ایسے الزامات کی حمایت میں کوئی ثبوت نہیں ملا کہ روہنگیا کے خلاف نسل کشی کی گئی یا اس کی منصوبہ بندی کی۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ انکوائری کرنے والے آزاد کمیشن نے اپنی تحقیقات سے فیس بک پیج پر ایک بیان کے ذریعے آگاہ کیا لیکن اس کی مکمل رپورٹ عوامی سطح پر جاری نہیں کی گئی۔ تاہم اس کے باوجود میانمار کی حکومت کی جانب سے حکومتی فورسز کے بڑے جرائم میں مرتکب ہونے کا اشارہ دینے کے لیے جاری کیے گئے کوئی بھی عوامی بیان سے بات بڑھ گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ 2017ء میں جنگی جرائم، سنگین انسانی حقوق اور مقامی قوانین کی خلاف ورزیاں اگرچہ مختلف عناصر کی جانب سے کی گئیں لیکن یہ یقین کرنے کے لیے معقول بنیادیں ہیں کہ میانمار کی سکیورٹی فورسز کے اراکین اس میں ملوث تھے۔ اس میں مزید کہا گیا کہ 'اندرونی مسلح تنازع کے دوران طاقت کے غیرمتناسب استعمال کے ذریعے میانمار کی سکیورٹی فورسز کے کچھ اراکین نے بے گناہ گاؤں والوں کو قتل کیا اور ان کے گھروں کو تباہ کر دیا'۔ یہ بیان اقوم متحدہ کی اعلیٰ عدالت کے اس فیصلے سے قبل آیا جو جمعرات کو شیڈول ہے اور اس میں درخواست کی گئی ہے کہ میانمار کو حکم دیا جائے کہ وہ روہنگیا کے خلاف نسل کشی مہم کے طور پر بیان کی جانے والے عمل کو روکے۔

واضح رہے کہ 57 ممالک کی اسلامی تعاون تنظیم کے اس الزام کی بنیاد پر کہ میانمار میں نسل کشی کی گئی اور اب بھی جاری ہے، گمبیا قانونی کارروائی کے لیے گزشتہ برس ہالینڈ میں موجود عالمی عدالت انصاف میں گیا تھا۔ دسمبر میں اس کیس کی ابتدائی سماعت میں میانمار کی لیڈر، اسٹیٹ کونسلر آنگ سانگ سوچی نے حکومتی فورسز کی جانب سے کچھ غلط کرنے کی سختی سے تردید کی تھی۔

بدھ مت کی اکثریت والے میانمار میں طویل عرصے سے روہنگیا کو بنگلہ دیش کے 'بنگالی' تصور کیا جاتا ہے، اگرچہ ان کے خاندان عرصوں سے اسی ملک میں رہ رہے ہیں، تاہم 1982ء سے ان تمام کی شہریت سے انکار کرنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ انہیں ریاست سے محروم کرنے اور ان کی آزادانہ نقل و حرکت اور دیگر بنیادی حقوق سے بھی انکار کیا جاتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 839950
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش