0
Wednesday 22 Jan 2020 13:35

حکومت کی کوششوں کے باوجود کالے دھن کو سفید کرنے کے راستے بڑھ رہے ہیں، شبر زیدی

حکومت کی کوششوں کے باوجود کالے دھن کو سفید کرنے کے راستے بڑھ رہے ہیں، شبر زیدی
اسلام ٹائمز۔ چھٹیوں کے بعد پہلی مرتبہ عوام کے سامنے آتے ہوئے وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین شبر زیدی نے دستاویزاتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ حکومت کی کوششوں کے باوجود پیسے کو سفید کرنے کے راستے بڑھ رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق آل پاکستان چیمبرز پریزیڈنٹس کونکلیو 2020ء میں خطاب کرتے ہوئے شبر زیدی کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے غیر ظاہر شدہ ٹیکس چوری کے پیسے کو روکنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں تاہم میرا ماننا ہے کہ ریئل اسٹیٹ ناجائز طریقوں سے کمائے گئے پیسوں کو سفید کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جس کے ساتھ پرائز بونڈ اور جائیداد کی خریداری کے لیے بھیجے گئے ڈالر بھی اس میں شامل ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے انہیں روکنے کے لیے چند اقدامات کیے ہیں۔

اس تقریب سے صدر عارف علوی، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر اور وزیر اعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے بھی خطاب کیا۔ اصلاحات کے مسئلے پر ایف بی آر چیئرمین نے وہاں موجود تاجروں کو بتایا کہ اصلاحات کے مطالبات اب دوسری جگہوں سے آرہے ہیں۔ انہوں نے معیشت کو کاغذات پر لانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ میں اکاؤنٹنٹ ہونے کے ناطے آپ کو مشورہ دینا چاہتا ہے کہ حکومت پر اصلاحات اور دستاویزات کے لیے دباؤ ڈالیں، 3 سے 4 نسلوں تک صرف وہی کاروبار چلتے ہیں جو دستاویزات پر ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دستاویزار ان کے لیے نہایت ضروری ہے جن کا کاروبار 1 ارب یا اس سے زائد لاگت کا ہو، دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے خاندانی کاروبار ایک نسل کے بعد ہی ختم ہوجاتا ہے، دستاویزات صنعتوں کے لیے بھی نہایت اہم ہے۔

برآمد پر انحصار کرنے والے شعبوں کی مقامی فروخت پر ٹیکس استثنیٰ کے معاملے پر شبر زیدی کا کہنا تھا کہ وہ اس کے حق میں نہیں ہیں اور اس کا مطالبہ جائز نہیں ہے۔ انہوں نے تاجروں سے اس کے موثر حل کے ساتھ سامنے آنے کا کہا کہ کس طرح آئندہ بجٹ میں ان سے ٹیکس اکٹھا کیا جائے۔ ایف بی آر چیئرمین نے کہا کہ معلوم ہوا ہے کہ لاہور کے سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں متعدد فیکٹریاں محکمہ سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ نہیں ہیں، کیا ہم اسے برداشت کرسکتے ہیں، برآمد پر انحصار کرنے والی صنعتوں کی مقامی فروخت پر ٹیکس چھوٹ دنیا میں کہیں نہیں دی جاتی ہیں۔ انہوں نے تاجروں سے مارچ تک ٹیکس پیشکش جمع کرانے کا کہا تاکہ بجٹ کے اعلان سے قبل ان پر تفصیلی بحث کی جاسکے۔
خبر کا کوڈ : 840001
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش