0
Wednesday 22 Jan 2020 14:52

طلبہ و طالبات کے ہیلتھ پروفائل پرفارما میں غیر اسلامی سوالات شامل ہونے کا انکشاف

طلبہ و طالبات کے ہیلتھ پروفائل پرفارما میں غیر اسلامی سوالات شامل ہونے کا انکشاف
اسلام ٹائمز۔ پنجاب کے تمام یونیورسٹیز اور تعلیمی اداروں میں طلبہ کو منشیات سے بچانے کیلئے "ہیلتھ پروفائل" تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس حوالے سے طلبہ کے لئے دیئے گئے ہیلتھ پروفائل پرفارما میں غیر اسلامی معاشرے کے سوالات شامل کئے گئے ہیں۔ ہیلتھ پروفائل کیلئے طلبہ کیلئے تیار کئے گئے پرفارما میں طلبہ سے یہ سوال بھی پوچھا گیا ہے کہ وہ جنسی فعل سرانجام دیتے ہیں اور یہ جنسی فعل کتنے عرصے کے بعد سرانجام دیتے ہیں۔ اسلامی معاشرے میں یا ایک اسلامی ملک میں جس فعل کی سختی سے ممانعت ہے اور اسے گناہ کبیرہ کا درجہ حاصل ہے اس فعل کے حوالے سے معصوم طلبہ و طالبات سے سوال کرنا جہاں غیر اخلاقی و غیر قانونی ہے وہیں یہ اقدام غیر اسلامی بھی ہے۔

والدین کی جانب سے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ والدین کا کہنا تھا کہ مغربی این جی اوز کے تابع نصاب اور تعلیمی امور چلائیں گے تو یہی نتیجہ نکلے گا کہ وہ ہمیں اپنی جہالت کا شکار کر لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ اپنا ایک بورڈ بنائے جو مغربی مشورے پر نہیں بلکہ اپنی اقدار کو پیش نظر رکھ کر نصاب ترتیب دے۔ دوسری جانب "اسلام ٹائمز" نے صوبائی وزیر ہائیر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں سے سوال کیا کہ کیا یہ غیر اسلامی و غیر اخلاقی سوال نہیں؟ تو وزیر ہائیر ایجوکیشن کا کہنا تھا کہ جی بالکل یہ ہمارے معاشرے کے مطابق سوال نہیں، اس پر سپریم کورٹ میں سوال اٹھائیں گے یہ سوال ہمارے معاشرے سے مطابقت ہی نہیں رکھتا اسے ختم کرائیں گے۔
خبر کا کوڈ : 840011
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش