0
Monday 27 Jan 2020 18:34

عراقی حکومت اور عوامی مزاحمتی فورسز کیطرف سے امریکی سفارتخانے پر راکٹ حملے کی مذمت

عراقی حکومت اور عوامی مزاحمتی فورسز کیطرف سے امریکی سفارتخانے پر راکٹ حملے کی مذمت
اسلام ٹائمز۔ عراق کے سیاسی اتحاد الفتح کے سربراہ ہادی العامری نے بغداد میں واقع امریکی سفارتخانے پر راکٹ حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے مشکوک قرار دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق الفتح کے سربراہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی سفارتخانے پر ہونیوالا راکٹ حملہ خطرناک اہداف کا حامل ہے اور عراق سے امریکی افواج کے انخلاء میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے ایک بہانے کے طور پر انجام دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عراق میں موجود سفارتخانوں اور سفارتی مقامات کے نشانہ بنائے جانے کے مخالف ہیں۔

عراق کے بڑے سیاسی اتحاد الفتح کے سربراہ ہادی العامری نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ایک سازش پر مبنی ہے جو عراقی خودمختاری کیلئے عراقی پارلیمنٹ کیطرف سے اٹھائے جانیوالے امریکی انخلاء کے اقدام کو روکنے کیلئے انجام دیا گیا ہے۔ ہادی العامری جو عراق کے مختلف مزاحمتی گروپس کے بھی کمانڈر ہیں نے عراقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سفارتی مقامات کی وسیع سکیورٹی کو یقینی بنائے اور اس حملے میں ملوث افراد کو منظر عام پر لائے۔

دوسری طرف عراق کی معروف عوامی مزاحمتی فورس عصائب اہل الحق کے کمانڈر جواد الطلیباوی نے بھی اسلامی مزاحمتی تحریکوں کیطرف سے امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنائے جانے کی تردید کرتے ہوئے اس بات پر تاکید کی ہے کہ امریکی سفارتخانے پر فائر کیا جانیوالا راکٹ ان اسلحوں میں سے ہے جو اسلامی مزاحمتی تحریکیں استعمال نہیں کرتیں۔ علاوہ ازیں عراقی وزیر اعظم عادل عبدالمہدی اور عراقی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد الحلبوسی نے بھی گزشتہ روز اپنے الگ الگ بیانات میں اس راکٹ حملے کی مذمت کی تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سہ پہر بغداد کے گرین ایریا کیطرف 5 کتیوشا راکٹ فائر کئے گئے تھے جن میں سے ایک بغداد کے گرین ایریا میں واقع وسیع و عریض امریکی سفارتخانے کے اندر جا گرا تھا جبکہ ایک امریکی فوجی افسر کا کہنا ہے کہ فائر کیا گیا راکٹ امریکی سفارتخانے کی مَیس میں گرا تھا جس سے وہاں موجود 6 امریکی فوجی زخمی ہو گئے تھے۔
خبر کا کوڈ : 841018
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش