0
Tuesday 28 Jan 2020 23:53
صدی کی ڈیل

قدس کے بغیر کوئی راہ حل قبول نہیں، فلسطین

قدس کے بغیر کوئی راہ حل قبول نہیں، فلسطین
اسلام ٹائمز۔ فلسطین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی "معا" کے مطابق فلسطینی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ قابضں صیہونی رژیم اور یہودی بستیوں کی توسیع کی حمایت میں یہ سمجھتے ہیں کہ وہ جس چیز کو "صدی کی ڈیل" کہتے ہیں، اسکی کامیابی کے امکانات اب بھی موجود ہیں لیکن اس امریکی "امن منصوبے" کی شقوں میں وسطی ایشیاء کے لکھا گیا متن، نہ آج اور نہ ہی کسی اور دن، فلسطینیوں کے مثبت تعامل کیلئے کوئی گنجائش باقی نہیں چھوڑتا۔

فلسطینی وزارت خارجہ کے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور انکی حکومت کس فائدے کی بات کرتے ہیں؟ درحالیکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں فلسطینی کسی بھی ایسے راہ حل کے، جس میں "قدس" کو اسرائیل کے حوالے کر دیا گیا ہو اور مغربی کنارے کا مزید 40 فیصد حصہ بھی مفت میں اسرائیلیوں کو دیدیا گیا ہو، قطعی طور پر مخالف ہیں۔ علاوہ ازیں فلسطینی حکومت کے ترجمان نبیل ابوردینہ نے عرب مسلمان سفیروں سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ واشنگٹن کیطرف سے "صدی کی ڈیل" کیلئے بلائے گئے اجلاس میں شرکت نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ (امریکہ کیطرف سے) منعقد کیا جانے والا یہ اجلاس فلسطینی عوام کے حقوق کو غصب کرنے اور فلسطینی مملکت کی اپنے دارالحکومت "قدس" شہر کیساتھ تشکیل کے منصوبے کو ناکام بنانے کی سازش ہے۔ واضح رہے کہ غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے سمیت مختلف فلسطینی شہروں میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اقدام پر وسیع احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔
خبر کا کوڈ : 841285
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش