0
Monday 10 Feb 2020 18:24

لال مسجد پر عبدالعزیز نامی دہشتگرد کا قبضہ قابل مذمت ہے، جے یو پی

لال مسجد پر عبدالعزیز نامی دہشتگرد کا قبضہ قابل مذمت ہے، جے یو پی
اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ قائد اہلسنت پیر معصوم حسین نقوی نے کہا ہے کہ لال مسجد اسلام آباد میں مولوی عبدالعزیز نامی دہشتگرد کا قبضہ قابل مذمت ہے، جبکہ اس ناجائز قبضے کو چھڑوانے کیلئے حکومت انتظامیہ کی طرف سے 20 کنال زمین دینے کا وعدہ شرمناک اور دہشتگردوں کے ہاتھوں بلیک میل ہونے کے مترادف ہے، ایک ایسا شخص جو طالبان اور داعش جیسی عالمی دہشتگرد تنظیموں کا پاکستان میں سرغنہ ہے، حکومت اور مسجد کا ناجائز قبضہ چھڑوانے کیلئے اسلام آباد انتظامیہ بلیک میل ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو دہشتگردوں کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہونا چاہیے لیکن لگتا ہے کہ عمران خان المعروف طالبان خان کے دل میں وزیراعظم بننے کے بعد بھی طالبان کیلئے نرم گوشہ موجود ہے۔ لاہور میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی حکومتی اقدام سے دہشتگردوں کی حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہیے، اس لئے حکومت دباو میں کوئی فیصلہ کر چکی ہے تو اسے واپس لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم وفاق المدارس العربیہ کے مولانا عبدالعزیز کی حمایت نہ کرنے کے اقدام کو سراہتے ہوئے واضح کرتے ہیں کہ دہشتگردوں کی جگہ مسجد نہیں، جیل ہے، مولانا عبدالعزیز نامی دہشتگرد کو مسجد سے نکال کر جیل میں ڈالنا چاہیے، آئین پاکستان کا احترام اور دہشتگردی، فرقہ واریت اور انتہاپسندی کا خاتمہ ضروری ہے۔ پیر معصوم نقوی نے کہا کہ مولوی عبدالعزیز کے ماضی سے کون واقف نہیں کہ جس نے اسلام آباد انتظامیہ کو مفلوج کرکے رکھ دیا تھا اور فوج کے مقابلے میں طالبات کو استعمال کیا اور پھر یہ موصوف بزدلی دکھاتے ہوئے برقع پہن کر فرار ہوتے ہوئے پکڑا گیا تھا اور قبضہ مافیا کا سرغنہ عبدالعزیز ایک بار پھر اسی لال مسجد میں قبضہ کرکے طالبات کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے، ہم خبردار کرتے ہیں کہ حکومت دہشت گردوں کی حمایت سے باز رہے اور اسلام آباد انتظامیہ کی طرف سے پلاٹ دینے کی پیشکش واپس لی جائے۔

انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ دہشت گرد تنظیم کالعدم طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان بھی فرار ہو گئے ہیں، یہ بہت بڑا سوال ہے؟ بھارتی دہشت گرد بھی پاکستان کی تحویل میں ہے، عوامی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے کہ احسان اللہ احسان اگر بھاگ سکتا ہے تو کلبھوشن یادیو کے بارے میں بھی کہیں ایسی خبر نہ آ جائے، اس تشویش بارے متعلقہ اداروں کو عوام کو بتانا چاہیے۔
خبر کا کوڈ : 843768
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش