0
Tuesday 21 Jul 2009 10:25
رہبر انقلاب اسلامی ایران حضرت آیت اللہ خامنہ ای:

آج اسلامی دنیا کی بنیادی ضرورت بعثت کے پیغام پر عمل پیرا ہوتے ہوئے عقل کو محور قرار دینا اور فضائل اخلاقی کو حکمفرما کرنا ہے

آج اسلامی دنیا کی بنیادی ضرورت بعثت کے پیغام پر عمل پیرا ہوتے ہوئے عقل کو محور قرار دینا اور فضائل اخلاقی کو حکمفرما کرنا ہے
رھبر انقلاب اسلامی ایران حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ آج اسلامی دنیا کی بنیادی ضرورت بعثت کے پیغام پر عمل کرتے ہوئے عقل کو اپنا محور قرار دینا اور فضائل اخلاقی کو معاشرے پر حکمفرما کرنا ہے۔ وہ عید سعید مبعث کے موقع پر ایک اجتماع سے جس میں ایران کی اہم شخصیات اور اسلامی ممالک کے سفیر شریک تھے خطاب فرما رہے تھے۔ انہوں نے اس موقع پر امت اسلامی کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے عاقلانہ تربیت، عقلمندی اور غور و فکر کو بعثت کے اہم پیغامات میں سے گنتے ہوئے کہا: "نبی مکرم اسلام ص کا پہلا کام اسلامی معاشرے پر عقل کو حکمفرما کرنا تھا کیونکہ معاشرے میں غور و فکر کی صلاحیت اور عقلمندی کی توانائی کو رواج دینا تمام مسائل کے حل ہونے، نفسانی خواہشات پر قابو پانے اور خدا کے حضور انسان کی بندگی کا زمینہ فراہم کرنے کا باعث ہے"۔ انہوں نے اخلاقی تربیت کو بعثت کے پیغام کا دوسرا حصہ بتاتے ہوئے کہا: "معاشرے میں اخلاقی فضائل کا رواج پاکیزہ ہوا کی مانند ہے جو سالم اور صحت مند زندگی کا زمینہ فراہم کرتی ہے اور انسان کو حرص، جہالت، دنیا طلبی، ذاتیات اور سوء ظن سے روکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں تزکیہ، تہذیب نفس اور اخلاقی نشوونما کو علم آموزی پر مقدم کیا گیا ہے"۔ حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے قانونی نظم و ضبط کو بعثت کا تیسرا اہم پیغام بیان کیا۔ رہبر انقلاب اسلامی ایران نے عالمی استکباری طاقتوں کے قبضے میں ذرائع ابلاغ کی طرف سے دنیا کی قوموں کی آزادی اور خودمختاری کو ختم کرنے کی سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی استکباری میڈیا اور انٹیلی جنس ادارے دنیا کی قوموں کو آزادی، خودمختاری اور عزت کے راستے پر چلنے سے روکتے ہیں۔ انہوں نے عقلمندی کی تشریح کرتے ہوئے کہا: "عقلانیت عام طور پر رائج سیاسی بازی نہیں ہے کیونکہ سیاسی بازی عقل کے خلاف ہے اور جو افراد سیاسی بازی کو عقلمندانہ کام سمجھتے ہیں وہ غلطی پر ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا: "عقلمندی کا صحیح راستہ خدا کی بندگی کا راستہ ہے اور اس کا معیار یہ ہے کہ ہم خود سے پوچھیں کہ آیا ہماری باتیں اور عمل خدا کی خاطر ہیں یا دوسروں کی توجہ حاصل کرنے کیلئے ہیں"۔
خبر کا کوڈ : 8443
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش