0
Saturday 15 Feb 2020 18:43
جنرل قاسم سلیمانی کی ٹارگٹ کلنگ بارے حکومتی رپورٹ امریکی کانگریس کو ارسال

حکومتی رپورٹ جنرل سلیمانی کی ٹارگٹ کلنگ کے بارے ٹرمپ کے دعوے کیخلاف ہے، امریکی سینیٹر

حکومتی رپورٹ جنرل سلیمانی کی ٹارگٹ کلنگ کے بارے ٹرمپ کے دعوے کیخلاف ہے، امریکی سینیٹر
اسلام ٹائمز۔ امریکی ایوان نمائندگان کے ایک رکن ایلیٹ اینگل نے ایرانی سپاہ قدس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی ٹارگٹ کلنگ کے بارے میں امریکی حکومت کیطرف سے پیش کردہ رپورٹ کو امریکی کانگریس میں جمع کروا دیا ہے۔ امریکی کانگریس کے اس رکن کا کہنا ہے کہ جمع کروائی گئی رپورٹ امریکی صدر کے اس موقف کے بالکل خلاف ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کو "ایک فوری خطرے" سے نمٹنے کیلئے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ حکومت کیطرف سے جمع کروائی گئی جنرل قاسم سلیمانی کی ٹارگٹ کلنگ کے دلائل و وجوہات پر مبنی رپورٹ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بالکل خلاف ہے کہ امریکی اہلکاروں اور امریکی سفارتخانے پر ممکنہ حملے سے بچنے کیلئے جنرل قاسم سلیمانی کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان کی کمیٹی برائے امورِ خارجہ کے سربراہ ایلیٹ اینگل نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کیطرف سے کانگریس کو جمع کروائی گئی اس رپورٹ میں کسی بھی قسم کے "فوری خطرے" کیطرف اشارہ نہیں کیا گیا جسکا مطلب یہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیطرف سے امریکی عوام کو جنرل قاسم سلیمانی کی ٹارگٹ کلنگ پر پیش کی گئی توجیہ غلط تھی۔ علاوہ ازیں ایلیٹ اینگل نے امریکی صدر کیطرف سے جنرل قاسم سلیمانی کی ٹارگٹ کلنگ کیلئے استعمال کئے گئے قانونی سہارے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سال 2002ء کے اس امریکی اجازت نامے کا سہارا لیا ہے جو سال 2003ء میں عراق پر حملہ کرنے کیلئے صادر کیا گیا تھا جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اقدام امریکی کانگریس کو اپنی کارروائیوں پر جوابدہی سے فرار ہے۔

ایلیٹ اینگل نے اپنے بیان میں کہا کہ اس سے بھی بدتر یہ کہ ٹرمپ حکومت نے امریکی کانگریس کو اپنے اقدامات پر جوابدہی سے فرار کیلئے یہ دعوی بھی غلط کیا تھا کہ کانگریس نے "عراقی جنگ کے 2002ء کے اجازت نامے" کے تحت جنرل قاسم سلیمانی کی ٹارگٹ کلنگ کے امریکی اقدام کو جائز قرار دیدیا ہے۔ اس امریکی سینیٹر کا کہنا ہے کہ یہ ایک "بکواس" قسم کی قانونی رائے ہے کیونکہ مذکورہ اجازت نامہ سال 2002ء میں صدام حسین کی عراقی حکومت کا مقابلہ کرنے کیلئے صادر کیا گیا تھا جس کا ایران یا عراق میں موجود ایرانی اعلی فوجی افسران کیساتھ کوئی تعلق نہیں۔ ایلیٹ اینگل نے کہا کہ یہ بیان کہ 18 سال گزرنے کے بعد بھی اس اجازت نامے کے ذریعے ایک ایرانی اعلی فوجی افسر کی ٹارگٹ کلنگ کی جا سکتی ہے، امریکی کانگریس کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ ایلیٹ اینگل کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جنرل سلیمانی کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا کر ایران کیساتھ تناؤ کو آخری حد پر پہنچا دیا تھا اور امریکہ کو ایک ایسی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا جو امریکی عوام کی مرضی کے خلاف ہے۔
خبر کا کوڈ : 844760
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش