0
Tuesday 18 Feb 2020 22:18

وفاقی حکومت صوبہ سندھ کو شاید اس ملک کا صوبہ ہی تسلیم نہیں کررہی ہے، سعید غنی

وفاقی حکومت صوبہ سندھ کو شاید اس ملک کا صوبہ ہی تسلیم نہیں کررہی ہے، سعید غنی
اسلام ٹائمز۔ وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت صوبہ سندھ کو شاید اس ملک کا صوبہ ہی تسلیم نہیں کررہی ہے اور ایسا محسوس ہورہا ہے کہاب اس صوبے کو سوتیلی ماں سے بھی زیادہ سوتیلا کردیا گیا ہے، شہناز انصاری نے اپنی شہادت سے چند روز قبل آئی جی سندھ کو خط لکھا تھا اور گذشتہ روز ان کے شوہر نے ہمیں بتایا کہ آئی جی کو خط بھیجا گیا تھا لیکن کوئی عمل درآمد نہیں کیا گیا، کیماڑی سانحہ کے حوالے سے محکمہ ماحولیات اور صوبائی ڈیزاسٹر کام کررہے ہیں، جبکہ ساتھ ہی پاکستان نیوی، آرمی اور اسپارکو کی ٹیمیں بھی کام کررہی ہیں اور امید ہے کہ آج اس حوالے سے کسی مثبت بات کا پتہ چل جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے کیمپ آفس میں تحریک انصاف کے الیکشن 2018ء میں پی ایس کے امیدوار اور حلقہ میں کامیاب امیدوار سے صرف 200 ووٹ کم لے کر دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے جان محمد گبول، مزار منگھوپیر کے سجادہ نشین خواجہ غلام حیدر مینگل، احمد خلجی، کپتان گبول، اسحاق رند، ریحان احمد سرہندی، محمد حسین چانڈیو، صفدر حسین شاہ، سمیت سینکڑوں کی تعداد میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کے موقع پر کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ شہید صحافی عزیز میمن کے اہلخانہ سے گذشتہ روز ملاقات میں انہیں سندھ حکومت کی جانب سے مکمل یقین دہانی کرائی گئی ہے اور وہ جس طرح چاہیں اور جس پولیس افسر سے چاہیں اس کیس کی انکوائیری ہم کروانے کو تیار ہیں اور اگر وہ چاہتے ہیں کہ اس کیس کی جوڈیشنل انکوائری ہو تو ہم اس کے لئے بھی چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو لکھنے کے لئے تیار ہے، تاہم ابھی تک ان کے لواحقین کی جانب سے ایف آئی آر کا اندراج نہیں کرایا گیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کی ذوق در ذوق شامل ہورہے ہیں، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پیپلز پارٹی وفاق کی جماعت ہے اور اس سے زیادہ منظم اور مستحکم سیاسی جماعت اس ملک میں اور کوئی نہیں ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ ہمارے پاس ماحولیات اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے علاوہ کوئی محکمہ نہیں ہے اور ان کے پاس بھی تمام سہولیات میسر نہیں ہیں، اس کے باوجود بھی یہ دونوں محکمے کام کررہے ہیں جبکہ نیوی، آرمی اور اسپارکو کی ٹیمیں بھی اب یہاں پہنچ چکی ہیں اور اہمیں امید ہے کہ آج اس حوالے سے مثبت بات معلوم ہوسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں افسوس وفاقی وزیر اور کے پی ٹی کی انتظامیہ کی جانب سے سانحہ کے فوری بعد آنے والے ردعمل پر ہوا جب انہوں نے فوری طور پر اس بات کا بیان دیا کہ ہمارے باعث ایسا نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک حقائق سامنے نہ آئیں اور جلد بازی میں اس طرح کے بیانات دینا قابل افسوس ہے، جب تک اسباب معلوم نہ ہوں کسی قسم کا بیان دینے میں محتاط رہنا بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سانحہ میں جو ہلاکتیں ہوئی ہیں ان کے لواحقین اپنے پیاروں کی لاشیں بغیر پوسٹ مارٹم کے لئے گئے ہیں، اگر پوسٹ مارٹم کیا جاسکتا تو شاید کچھ عوامل سامنے آجاتے البتہ 150 کے قری متاثرہ افراد میں سے متعدد کے خون کے نمونے حاصل کرلئے گئے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 845356
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش