1
Thursday 20 Feb 2020 19:54

اعلی سطحی عالمی صیہونی تنظیم کیطرف سے اپنی نوعیت کا پہلا سعودی دورہ، آرتھر اسٹارک کے زبانی

اعلی سطحی عالمی صیہونی تنظیم کیطرف سے اپنی نوعیت کا پہلا سعودی دورہ، آرتھر اسٹارک کے زبانی
اسلام ٹائمز۔ امریکہ میں موجود سب سے بڑی صیہونی لابی "اہم امریکی یہودی تنظیموں کی سربراہی کانفرنس" کے سربراہ آرتھر اسٹارک جو چند روز قبل سعودی عرب کے پہلے دورے پر گئے ایک اعلی سطحی صیہونی وفد کی سربراہی کر رہے تھے نے اپنے اس دورے کے احوال بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سعودی عرب میں انکے 30 افراد پر مشتمل اس وفد کی اعلی سعودی حکام اور بااثر شخصیات کیساتھ ملاقاتیں کروائی گئی ہیں۔ آرتھر اسٹارک کے مطابق اس صیہونی وفد نے ریاض میں منعقد ہونیوالی ایک کانفرنس میں شرکت کیلئے 4 دن وہاں قیام کرنا تھا جبکہ صیہونی لابی کے اس اعلی سطحی وفد کیطرف سے سعودی عرب کا یہ دورہ گزشتہ 3 دہائیوں میں اپنی نوعیت کا پہلا دورہ تھا۔

آرتھر اسٹارک کے مطابق سعودی عرب میں انکے قیام کے دوران ان کا خاص خیال رکھا گیا اور انہیں یہودیوں کی مخصوص نماز پڑھنے کی بھی اجازت دی گئی۔ امریکہ میں سب سے بڑی صیہونی لابی کے سربراہ اور اسرائیلی وزیراعظم کے قریبی دوست آرتھر اسٹارک لکھتے ہیں کہ سعودی عرب کے اس دورے کے دوران انکے وفد سے سعودی عرب کے اعلی سطحی حکام کیساتھ ساتھ انتہائی بااثر سعودی شخصیات سے بھی ملاقاتیں کروائی گئیں جن میں سعودی عرب کے مبلّغ اعظم، مسلم ورلڈ لیگ (رابطۃ العالم الاسلامیہ) کے سربراہ اور سعودی ولیعہد "محمد بن سلمان" کے قریبی دوست "محمد العیسی" بھی شامل ہیں۔


واضح رہے کہ "اہم امریکی یہودی تنظیموں کی سربراہی کانفرنس" نامی تنظیم جو امریکہ سمیت پوری دنیا میں صیہونی ازم کی سب سے بڑی لابی ہے کو آج سے 50 سال قبل سیاست خارجہ کے حوالے سے تمامتر بااثر یہودیوں کے موقف میں اتحاد پیدا کرنے کیلئے قائم کیا گیا تھا جبکہ اس تنظیم کے اعلی سطحی وفد کیطرف سے سعودی عرب کا حالیہ دورہ گزشتہ 3 دہائیوں کے دوران اپنی نوعیت کا پہلا دورہ ہے تاہم 5 سال قبل بھی ایک اہم صیہونی امریکی تنظیم کے وفد نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا جسکے دوران کئی روز تک اس نے سعودی دارالحکومت ریاض میں قیام بھی کیا تھا۔

یاد رہے کہ اس اہم صیہونی امریکی تنظیم کے وفد کا سعودی عرب کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں انجام پایا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیطرف سے 3 ہفتے قبل ہی 28 جنوری 2020ء کے روز اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی موجودگی میں یکطرفہ طور پر فلسطینی حقوق کی پائمالی پر مبنی "صدی کی ڈیل" نامی مذموم سازش کو متعارف کروایا گیا ہے جسے عرب دنیا سمیت پوری عالمی برادری نے غاصب صیہونی رژیم اسرائیل کے جرائم کو قانونی حیثیت دینے اور فلسطینی حقوق کو سرے سے ختم کر دینے کی سازش اور "صدی کا ظلم" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا جبکہ سعودی عرب اُن گنے چنے ممالک میں سے ایک ہے جنہوں نے نہ صرف اس امریکی اسرائیلی سازش کی مذمت کرنے سے اجتناب برتا بلکہ دنیائے اسلام کی سربراہی کے اپنے دعوے کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ترمپ کیطرف سے پیش کردہ "صدی کے ظلم" کی اس سازش کا خیرمقدم بھی کیا۔
خبر کا کوڈ : 845729
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش