0
Tuesday 25 Feb 2020 23:30

بارڈر کی بندش سے ایران میں پاکستانی زائرین شدید مشکلات کا شکار ہوسکتے ہیں، علامہ ناصر عباس جعفری

بارڈر کی بندش سے ایران میں پاکستانی زائرین شدید مشکلات کا شکار ہوسکتے ہیں، علامہ ناصر عباس جعفری
اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے جمہوری اسلامی ایران میں کرونا وائرس کی رپورٹ کے بعد بلوچستان حکومت کی طرف سے کئے جانے والے فیصلوں پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تفتان بارڈر کی بندش سے ایران میں موجود پاکستانی زائرین شدید مشکلات کا شکار ہوسکتے ہیں۔ اپنے ایک بیان میں علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ مقامات مقدسہ کا براستہ سڑک سفر کرنے والے زائرین کی اکثریت کا تعلق متوسط طبقے سے ہے اور ان کے وسائل محدود ہوتے ہیں، ایران میں قیام اگر طوالت اختیار کر لیتا ہے، تو انہیں رہائش اور طعام جیسی مشکلات کا یقنیاََ سامنا ہوگا۔ ان زائرین کو بے یار و مددگار نہ چھوڑا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں موجود پاکستانی سفارت خانے کو ان زائرین کی مدد کیلئے ہنگامی بنیادوں پر خاطر خواہ انتظامات کرنے ہوں گے۔

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ ایران میں موجود پاکستانی زائرین کیلئے امدادی سرگرمیاں موجودہ حالات کا تقاضہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کو بنیاد بنا کر مقامات مقدسہ جانے والے زائرین کی آمدورفت کو وقتی ضرورت کے تحت موخر تو کیا جا سکتا ہے، لیکن اسے بے جا طوالت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے ایران و عراق جانے والے زائرین پر پابندی کو تمام پہلوؤں سے بغور دیکھا جا رہا ہے۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ پاکستان کے ہر شہری کی صحت و سلامتی بلاشبہ مقدم ہے، لیکن ان تمام امور میں نیک نیتی شرط اول ہے، دنیا کے باقی ممالک سے اگر ایران میں آمدورفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے، تو پھر پاکستانی حکومت کو بھی اپنے فیصلہ پر فوری طور پر نظرثانی کرنا ہوگی۔
خبر کا کوڈ : 846766
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش