0
Wednesday 11 Mar 2020 15:05

ہمارے معاشرے میں عورت کی عزت کو اولین حیثیت حاصل ہے، سمیعہ راحیل قاضی

ہمارے معاشرے میں عورت کی عزت کو اولین حیثیت حاصل ہے، سمیعہ راحیل قاضی
اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی کی مرکزی رہنما سمیعہ راحیل قاضی نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے عورت مارچ اور حیا مارچ کے منتظمین کو اکھٹا کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے، لیکن ہماری جماعت سے ابھی تک کسی بھی حکومتی نمائندہ نے رابطہ نہیں کیا۔ لاہور میں تکریم نسواں مارچ کی منتظمین سے خطاب میں سمیعہ راحیل قاضی کا کہنا تھا کہ ہم نے کبھی عورت مارچ کی مخالفت نہیں کی بلکہ ان سلوگن سے مسئلہ ہے جن کو ہم اپنی زبان پر بھی لانا نہیں چاہتے، جس کو ہر سطحح پر تشریح کیلئے تمام سطحوں پر دیکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے واضع الفاظ میں کہا ہے کہ خواتین کا دن اس بات کا مرہون منت ہے کہ خواتین کے مسائل موجود ہیں، ان کو حکومتی سطح پر منظور تو کیا گیا ہے مگر اس پر کبھی عملدرآمد نہیں کیا گیا، ہم خود ان خواتین کے مسائل کو ایک چارٹر کی شکل میں لائے ہیں۔
 
انہوں نے کہا کہ تکریم نسواں مارچ کی کامیابی اس بات کی عکاس ہے کہ ہمارے معاشرہ کی خواتین اسلامی اقدار کے مطابق ہی زندگی گزارنا پسند کرتی ہیں، خواتین کے عالمی دن کو منانے کا مقصد ہمارے ملک کی خواتین کو جن بنیادی مسائل کا سامنا ہے ان کے حق کیلئے بات کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک اسلامی اقدار پر قائم کیا گیا ہے، اور ہمارے معاشرے میں عورت کی عزت اور تکریم کو اولین حیثیت حاصل ہے لیکن چونکہ ہماری حکومتی ترجیحات میں خواتین کے مسائل کا حل کرنا شامل نہیں رہا اس لئے ہماری خواتین کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے، جن میں تعلیمی، خانگی، صحت اور ڈومیسٹک وائلینس سمیت ہراسمنٹ بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ ہمارے مارچ کو ملک گیر پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور تکریم نسواں مارچ میں ہر طبقہ فکر کی خواتین نے بھرپور شرکت کرکے ہمارے ارادوں کو تقویت بخشی ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ حکومت کو بہت پہلے ایکشن لے لینا چاہیے تھا کہ آزادی کے نام پر عورت کی عزت کو ایسے ایشو نہ بنایا جائے کوئی بھی مہذب اور اسلامی معاشرہ اس کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے خواتین کے مسائل کو حل کرنے کے چند مطالبات پیش کئے ہیں، جن میں معاشرے میں ہر سطح پر عورت کی عزت کو تحفظ، فریضہ تعلیم کا حصول، عورت کی حق کفالت کو یقینی، گھریلو تشدد کی روک تھا م، وراثت میں حق، گھر میں عورت کی نگرانی کو فخر جیسے مطالبات ہیں اگر حکومت ان کا اطلاق کر دے تو عورت مکمل طور پر بااختیار ہو جائے گی۔
خبر کا کوڈ : 849695
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش