0
Friday 20 Mar 2020 20:59

پاکستانی طالب علم کا کورونا وائرس کا جدید ویکسینیشن ماڈل تیار کرنے کا دعویٰ

پاکستانی طالب علم کا کورونا وائرس کا جدید ویکسینیشن ماڈل تیار کرنے کا دعویٰ
اسلام ٹائمز۔ پنجاب یونیورسٹی کے طالب علم حافظ مزمل نے کورونا وائرس کا جدید ویکسینیشن ماڈل تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حافظ مزمل کا کورونا وائرس پر تحقیقی مقالہ بین الاقوامی جریدے میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ پاکستانی سائنسدان کا تحقیقی مقالہ ایم ڈی پی آئی کے سب کنٹینینٹ پری پرنٹ نے شائع کیا۔ پنجاب یونیورسٹی کے طالب علم نے کورونا وائرس کے چار اہم پروٹین پر تحقیق کی۔ ویکسین کے تمام تجربات کمپیوٹیشنل سافٹ ویئر اور ڈیٹا بیسز کے ذریعے کیے گئے۔ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ مزمل نے بتایا کہ وہ پی ایچ ڈی سکالر ہیں اور پنجاب یونیورسٹی میں اسسٹنٹ رجسٹرار تعینات ہیں۔ حافظ مزمل فرانزک سائنسدان کے طور پر بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کم وقت میں کسی ویکسین کو بنانے کے لئے کمپیو ٹیشنل ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہیں۔


خیال رہے کہ کورونا وائرس دنیا کے 165 ممالک میں پھیل چکا ہے اور اس سے 2 لاکھ کے قریب افراد متاثر ہیں جب کہ 7991 ہلاک ہوئے ہیں۔ دنیا کی تمام بڑی کمپنیاں اس وقت کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کیلئے دن رات کوشش کر رہی ہیں۔ کورونا وائرس کے مریضوں میں مسلسل اضافے کے سبب دنیا بھر میں درجنوں تحقیقی گروپ ایک ویکسین بنانے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں اور ایک وقت میں مختلف اقسام کی ویکسینوں پر کام کیا جا رہا ہے۔ زیادہ توجہ نئی ٹکنالوجی سے تیار کردہ شاٹس پر دی جا رہی ہے کیوں کہ روایتی ٹیکوں کی نسبت نہ صرف ان کو تیزی سے تیار کیا جاسکتا ہے بلکہ زیادہ مؤثر بھی ہیں۔ مزیدبرآں پنسلوانیا کی یونیورسٹی کی میں دوا ساز کمپنی انویو بھی آئندہ ماہ اپنی ویکسین کا تجربہ کرے گی جس کے بعد اس کو چین اور جنوبی کوریا میں آزمایا جائے گا۔ امریکی صحت عامہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی ممکنہ ویکسین کی مکمل تصدیق میں ایک سال سے 18 ماہ کا وقت لگے گا۔

 
خبر کا کوڈ : 851586
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش