0
Saturday 21 Mar 2020 16:30

سکھر قرنطینہ سینٹر، سہولیات کی عدم فراہمی و رضاکاروں کو باہر نکالنے پر مقیم زائرین کا شدید احتجاج

سکھر قرنطینہ سینٹر، سہولیات کی عدم فراہمی و رضاکاروں کو باہر نکالنے پر مقیم زائرین کا شدید احتجاج
اسلام ٹائمز۔ اندرون سندھ کے شہر سکھر کی لیبر کالونی میں قائم قرنطینہ سینٹر میں تفتان سے لاکر رکھے گئے 1065 سے زائرین نے اس وقت بلاکس سے نکل کر احتجاج کرنا شروع کر دیا، جب سینٹر کی انتظامیہ نے متعین شیعہ رضاکاروں کو باہر نکال دیا اور علماء کرام کے داخلے پر پابندی عائد کر دی، جس پر زائرین مشتعل ہوگئے اور انہوں نے احتجاج کیا۔ تفصیلات کے مطابق لیبر کالونی سکھر میں قائم قرنطینہ سینٹر میں مقیم زائرین سہولیات کی عدم فراہمی، قرنطینہ سینٹر سے رضاکاروں کو باہر نکالنے اور ملاقات کی اجازت نہ دینے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بلاکس سے باہر نکل آئے۔ احتجاجی زائرین نے انظامیہ کے خلاف قرنطینہ مرکز کے گیٹ پر شدید نعرے لگائے۔ احتجاجی زائرین کا کہنا تھا کہ ہمیں قید کرکے رکھا گیا ہے، ملاقات کی اجازت تک نہیں دی جا رہی ہے، سہولیات دی نہیں گئی ہیں، مگر دعوے کیے جا رہے ہیں، انتظامیہ ہمیں بے جا قید کرکے رکھنا چاہتی ہے، ورثا کو نہ ملنے دیا جا رہا ہے اور نہ ہی سامان لینے دیا جا رہا ہے، ورثاء اور رضاکاروں کو اندر آنے ملاقات کی اجازت دی جائے۔

ایک طرف زائرین احتجاج کر رہے تھے، تو دوسری طرف قرنطینہ سینٹر کے باہر شیعہ رضاکاروں نے بھی احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اطلاع پر ڈی سی سکھر رانا عدیل و دیگر انتظامی افسران نے پہنچ کر زائرین کے ساتھ مذاکرات کیے، تاہم زائرین اور رضاکاروں نے احتجاج ختم نہ کیا، جس پر انتظامیہ نے فوری طور پر شیعہ علماء کرام کو طلب کیا، جنہوں نے موقع ہر پہنچ کر مظاہرین سے مذاکرات کیے ہیں اور زائرین کو واپس بلاکس میں منتقل کر دیا۔ اس موقع پر وزیر ٹرانسپورٹ سندھ اویس شاہ، میئر ارسلان شیخ شیخ، کمشنر سکھر بھی موجود تھے۔ انتظامیہ نے زائرین کے احتجاج کے بعد قرنطینہ سینٹر کے اندر اور باہر انتظامات مزید سخت کر دیئے اور پولیس و رینجرز کی نفری بھی بڑھا دی گئی۔
خبر کا کوڈ : 851766
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش