0
Thursday 26 Mar 2020 00:51

ماہر نفسیات ڈاکٹر افتخار حسین کا عوام کو کورونا سے نہ گھبرانے کا مشورہ

ماہر نفسیات ڈاکٹر افتخار حسین کا عوام کو کورونا سے نہ گھبرانے کا مشورہ
اسلام ٹائمز۔ ماہر نفسیات ڈاکٹر میاں افتخار حسین نے عوام کو کورونا وائرس کے خوف سے خبردار رہتے ہوئے تجویز دی کہ ہے کہ گھبرائیں نہیں اور گھروں میں رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام طبی تجاویز کے خلاف لیبارٹریز کی جانب بھاگ رہے ہیں، تاکہ ٹیسٹ کروا سکیں، کنسلٹنٹ ماہر نفسیات ڈاکٹر میاں افتخار حسین نے بتایا کہ ایک پہلو یہ ہے کہ لوگ کورونا وائرس وبائی بیماری کی شدت کو سمجھ نہیں رہے، کیونکہ وہ اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات نہیں کر رہے ہیں، جبکہ کچھ افراد کو علامات نہ ہونے کے باوجود وائرس ہونے کا شدید فوبیا ہوگیا ہے۔ لوگوں کو شدید خوف و ہراس کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے، جس سے ان کے دل کی دھڑکنیں تیز ہونا، منہ خشک ہونا اور پورے جسم کا سن ہونا جیسی علامات سامنے آرہی ہیں اور اس کے علاوہ آدھی رات کو وہ (پینک اٹیک) گھبراہٹ سے جاگ جاتے ہیں۔

ڈاکٹر میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ ایسے لوگوں کو پریشان کن خیالات آتے ہیں کہ اگر وہ مرگئے تو ان کے اہلخانہ، بیوی اور بچوں کا کیا بنے گا، وہ تفتیش اور علاج کے لیے نفسیاتی نوعیت کے دم گھٹنے اور سانس کی تکلیف کے ساتھ ہسپتالوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ ان کے اہلخانہ کے افراد مرنے والے ہیں۔ جنہیں بخار، کھانسی، گلے یا سینے میں انفیکشن ہے، انہیں کچھ نہیں ہوگا، انہیں لیٹنا چاہیئے، گہری سانسیں لینا چاہئیں اور جب تک ہوسکے اسے روکیں اور پھر اسے آہستہ آہستہ چھوڑیں اور دن میں تین بار اسے دہرائیں۔ ڈاکٹر افتخار نے مزید کہا کہ وہ اس مشق کے ذریعے اپنے آپ کو کسی آرام دہ اور پرسکون مقام پر لے جا کر تھراپی کرسکتے ہیں۔ کورونا وائرس میں 95 فیصد انفیکشن سے جسم کا قوت مدافعت کا نظام لڑ سکتا ہے، صرف پانچ فیصد متاثرہ افراد کو پھیپھڑوں اور سانس کی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، شدید فوبیا والا شخص نفسیاتی ماہر سے رابطہ کرے۔
خبر کا کوڈ : 852636
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش