0
Wednesday 29 Apr 2020 16:09

اٹھارہویں ترمیم کا مطلب صوبائی خودمختاری کا خاتمہ ہوگا، اعجاز ہاشمی

اٹھارہویں ترمیم کا مطلب صوبائی خودمختاری کا خاتمہ ہوگا، اعجاز ہاشمی
اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی صدر اور نائب صدر متحدہ مجلس عمل پیر اعجاز احمد ہاشمی نے کہا ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے خاتمے کا مطلب صوبائی خود مختاری کالعدم اور ون یونٹ کی بحالی ہوگا۔ مضبوط مرکز میں ارتکاز اقتدار کا خمیازہ قوم پہلے ہی بنگلہ دیش کی شکل بھگت چکی ہے۔ امید ہے کہ پہلے کی طرح اٹھارویں ترمیم ختم کرنے کی سازش پر حکومت کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے اور ارادہ ترک کر دے گی کیوں کہ حکمران اتحاد کے پاس قانون سازی کیلئے پارلیمنٹ میں مطلوبہ دو تہائی اکثریت موجود نہیں۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے بڑی محنت کیساتھ متفقہ طور پر تمام پارلیمانی قوتوں کو اعتماد میں لے کر اٹھارویں ترمیم کو پارلیمنٹ سے منظور کروایا، لیکن موجودہ حکومت کیلئے ایسا قومی اتفاق رائے پیدا کرنا ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایوان اقتدار میں پائی جانیوالی بے چینی اور افراتفری سے لگتا ہے کہ عمران حکومت کو سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت برداشت نہیں ہو رہی، ایسا آمرانہ رویہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے، انہیں چاہئے کہ مضبوط وفاق کے سیاسی ایجنڈے پر نظر ثانی کریں اور مخالف سیاسی جماعت کی حکومت پر قبضے کا خیال دل سے نکال دیں، یاد رکھیں کہ پاکستان ایک فیڈریشن ہے، جس کے چار صوبے آئین کے مطابق چلائے جاتے ہیں۔ میڈیا سیل کی طرف سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ صدارتی نظام اور مضبوط مرکز کبھی بھی پاکستان کیلئے مفید نہیں رہا۔ صوبائی خودمختاری پر تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں، پاکستان چار وفاقی اکائیوں بلوچستان، سندھ ،خیبر پختونخوا اور پنجاب پر مشتمل ہے، جن کے درمیان کنکرنٹ لسٹ کے خاتمے اور صوبائی خود مختاری کے بعد وفاق سے زیادہ اختیارات آ چکے ہیں۔

پیر اعجاز ہاشمی نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ عمران خان حکومت کوئی ایسی سیاسی غلطی نہیں کرے گی جس سے ایوب خان اور یحییٰ خان کے مارشل لاوں کی یاد تازہ ہو جائے کیونکہ ان فوجی آمروں کو بھی صوبائی خود مختار حکومتیں پسند نہیں تھیں اور مضبوط مرکز کے نشے میں مشرقی پاکستان کو بنگلا دیش بنا دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ جمہوری انداز سے سیاسی جماعتوں کو برسر اقتدار لائے اور صوبائی حکومتوں کی تشکیل بھی ہوئی کیونکہ پاکستان میں جغرافیائی، لسانی اور قومی طبقاتی تقسیم کی وجہ سے ضروری ہے کہ صوبائی اور مقامی حکومتوں کے مضبوط نظام بنائے جائیں۔
خبر کا کوڈ : 859700
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش