1
Friday 5 Jun 2020 16:49

مغربی کنارے پر مزید اسرائیلی قبضہ امریکہ کے مفاد میں نہیں، سپیکر امریکی ایوان نمائندگان

مغربی کنارے پر مزید اسرائیلی قبضہ امریکہ کے مفاد میں نہیں، سپیکر امریکی ایوان نمائندگان
اسلام ٹائمز۔ امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر سینیٹر نینسی پلوسی نے اسرائیل کی جانب یجانب سے فلسطینی مغربی کنارے کے مزید حصے کو اپنے قبضے میں لئے جانے پر مبنی "مغربی کنارے کے اسرائیل کے ساتھ الحاق" کے منصوبے پر شدید تنقید کرتے ہوئے امریکی حکومت کو اس حوالے سے خبردار کیا ہے۔ صیہونی اخبار "یروشلم پوسٹ" کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نے "یہودی جمہوری کونسل آف امریکہ" (Jewish Democratic Council of America) کی ایک تقریب سے ویڈیوکانفرنس پر خطاب کے دوران صیہونی رژیم کی جانب سے مزید فلسطینی مغربی کنارے کو اسرائیل کے ساتھ ملحق کرنے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یکطرفہ الحاق، مستقبل کو خطرے میں ڈال دے گا۔ نینسی پلوسی نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف امریکہ کے سکیورٹی مفادات کو نقصان پہنچائے گا بلکہ ایک عشرے سے جاری دونوں (امریکی سیاسی) پارٹیوں کی (اسرائیلی حمایت پر مبنی) سیاست کو بھی کمزور کر دے گا۔

امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی نے یہودی جمہوری کونسل آف امریکہ سے خطاب میں اسرائیل کو ملنے والی اربوں ڈالر کی امریکی امداد کے معاہدے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ (مزید فلسطینی سرزمین کے) اسرائیل کے ساتھ الحاق کے بارے وقوع پذیر ہونیوالا وہ حادثہ جو میں دیکھ رہی ہوں، اس کے حوالے سے بہت پریشان ہوں۔ نینسی پلوسی نے کہا کہ چونکہ فلسطینی حکام اچھے مذاکرات کار نہیں، میں ان کی تعریف نہیں کر سکتی، اے کاش کہ وہ بہتر مذاکرات کار ہوتے جبکہ میرے خیال میں اس مسئلے پر کوئی شخص بھی بہتر طریقے سے مذاکرات انجام دے سکتا ہے۔ اسرائیلی ای مجلے ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق نینسی پلوسی نے اپنے خطاب میں گذشتہ دسمبر میں امریکی ایوان نمائندگان کے ڈیموکریٹ اراکین کی جانب سے مزید قبضے کی مخالفت اور فلسطین میں 2 حکومتوں کے قیام کی حمایت میں پیش کئے جانے والے بل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مزید 30 فیصد فلسطینی اراضی کے اسرائیل کے ساتھ یکطرفہ الحاق کو "غیرقابل قبول" قرار دیا ہے۔ نینسی پلوسی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کئے گئے نام نہاد امن معاہدے صدی کی ڈیل پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ "صدی کی ڈیل" کسی طور بھی لفظ "امن" یا "منصوبے" کے ساتھ میل نہیں کھاتی۔

واضح رہے کہ غاصب صیہونی رژیم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کے ساتھ "مغربی کنارے پر مشتمل" مزید 30 فیصد فلسطینی سرزمین کو اسرائیل کے ساتھ ملحق کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے جبکہ فلسطینی حکام و مزاحمتی رہنماؤں کی جانب سے اس صیہونی منصوبے کو امریکہ کی طرف سے پیش کردہ "صدی کی ڈیل" نامی سازشی منصوبے کا ہی ایک حصہ قرار دیا گیا ہے۔ بنابرایں فلسطینی حکومت کی جانب سے اس صیہونی۔امریکی سازش کے ردعمل میں اسرائیل و امریکہ کے ساتھ استوار ہر قسم کا رابطہ منقطع کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ قبل ازیں بھی صیہونی میڈیا کی جانب سے یہ خبر دی گئی تھی کہ یورپ کے چند اہم ممالک نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو لکھے گئے اپنے ایک خط میں صیہونی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ فلسطین کے بارے تمام منصوبوں میں صرف اور صرف بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہی عملدرآمد کیا جائے۔
خبر کا کوڈ : 866740
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش