?>?> مدارس، اسکولز اور دیگر تعلیمی اداروں کی بندش سے طلباء کا حرج ہورہا ہے، قاری محمد عثمان - اسلام ٹائمز
0
Saturday 6 Jun 2020 03:05

مدارس، اسکولز اور دیگر تعلیمی اداروں کی بندش سے طلباء کا حرج ہورہا ہے، قاری محمد عثمان

مدارس، اسکولز اور دیگر تعلیمی اداروں کی بندش سے طلباء کا حرج ہورہا ہے، قاری محمد عثمان
اسلام ٹائمز۔ جمعیت علماء اسلام کے رہنماء قاری محمد عثمان نے کہا کہ مدارس، اسکولز اور دیگر تعلیمی اداروں کی بندش سے طلباء کا حرج ہورہا ہے، ایس او پیز کی رعایت کے ساتھ جب کاروبار اور مارکیٹیں کھل سکتی ہیں تو تعلیمی ادارے کیوں نہیں، تعلیمی اداروں کیساتھ حکومتی رویہ افسوسناک ہے، کورونا وائرس کی آڑ میں عوام کا معاشی قتل عام بند کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آل سندھ پرائیوٹ اسکول الائنس کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفد میں چیئرمین پرائیوٹ اسکول الائنس علیم قریشی، جنرل سیکریٹری حنیف جدون و دیگر شامل تھے۔ قاری محمد عثمان نے کہا کہ کورونا وائرس کی بنیاد پر ملک بھر کے تعلیمی اداروں کو مکمل بند کرنا مسئلے کا حل نہیں، لاکھوں طلباء کا تعلیمی حرج ہورہا ہے جو کہ ملک و قوم کا نقصان ہے، پرائیوٹ اسکولز سمیت دیگر تعلیمی ادارے جام ہوکر رہ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے حوالے سے حکومتی انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں، ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز نہ ہونے کی وجہ سے عوام رل رہے ہیں اور حکومتی سرگرمیاں بیانات کی حد تک ہی محدود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان سمیت تمام تعلیمی بورڈز کی تعلیمی سلسلے کی بندش کے حوالے سے مشاورت جاری ہے، مدارس میں آن لائن داخلوں کا آغاز کردیا گیا ہے، جامعہ عثمانیہ شیر شاہ میں آن لائن داخلے جاری ہیں۔ قاری محمد عثمان نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کرنے والے تعلیمی اداروں کو تعلیمی سلسلہ شروع کرنے کی اجازت دی جائے، جب کاروباری مراکز، سرکاری دفاتر اور مارکیٹوں کو ایس او پیز کے تحت اجازت دی جاسکتی ہے تو پھر تعلیمی اداروں کو اجازت نہ دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ساڑھے 3 ماہ پورے ہورہے ہیں کاروبار زندگی بند ہونے کے وجہ سے غریب اور امیر کا جہاں فرق ختم ہوکر رہ گیا ہے، وہیں ملک کا معاشی پہیہ جام ہوگیا ہے، غریب عوام اور دیہاڑی دار مزدور خودکشی پر مجبور ہورہا ہے، چاہیئے تو یہ تھا کہ حکومت پسے ہوئے عوام کا سہارا بن کر مسیحا کا کردار ادا کرتی مگر بدقسمتی سے عام لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔
خبر کا کوڈ : 866822
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش