?>?> قومی اداروں کو دانستہ طور پر مفلوج کرکے ان کی مستقل بندش کا جواز فراہم کیا جا رہا ہے، علامہ باقر زیدی - اسلام ٹائمز
0
Monday 8 Jun 2020 23:12

قومی اداروں کو دانستہ طور پر مفلوج کرکے ان کی مستقل بندش کا جواز فراہم کیا جا رہا ہے، علامہ باقر زیدی

قومی اداروں کو دانستہ طور پر مفلوج کرکے ان کی مستقل بندش کا جواز فراہم کیا جا رہا ہے، علامہ باقر زیدی
اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ باقر عباس زیدی نے پاکستان اسٹیل مل کے نو ہزار سے زائد ملازمین کو ملازمت سے فارغ کرنے کے حکومتی فیصلے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اداروں کو دانستہ طور پر مفلوج کرکے ان کی مستقل بندش کا جواز فراہم کیا جا رہا ہے، حکومت کا کام بےروزگار نوجوانوں کو ملازمت کی فراہمی ہے، دو کروڑ ملازمتوں کی فراہمی اور مدینہ کی ریاست کے بلند و بانگ دعوے پانی کے بلبلے کی طرح بیٹھتے ہوئے نظر آتے ہیں، قومی ادارے ترقی و استحکام کی طرف گامزن ہونے کی بجائے تباہی کے دہانے کی طرف بڑھ رہے ہیں، جس کی بنیادی وجہ قومی اداروں کے کلیدی عہدوں پر سیاسی تقرریاں اور ایسے افراد کی تعیناتی ہے، جو مخصوص مقاصد کی تکمیل کے لئے سرگرم ہیں ان کا مقصد قومی اداروں کو تباہ کرکے نجی صنعتوں کو فائدہ پہنچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے اپنے مفادات کے لئے قومی اداروں کی تباہی کی بنیاد رکھی، اسٹیل مل کی بدحالی اسی منظم سازش کا حصہ ہے، ملک میں ہونے والی سرکاری تعمیرات کے ٹھیکے پرائیویٹ کمپنیوں کو دیئے گئے جس سے اسٹیل مل کمزور ہونا شروع ہوئی، ادارے کی رہی سہی ساکھ سیاسی جماعتوں کے من پسند افراد کو چیئرمین بناکر اور کرپشن کے ذریعے تباہ کی گئی، اسٹیل مل کو اس قابل نہ چھوڑا گیا کہ وہ ذاتی پیداوار کی ترسیل کا عمل جاری رکھتی۔

علامہ باقر عباس زیدی نے کہا کہ موجودہ حالات کہ جب عام آدمی شدید معاشی تنگدستی کا شکار ہے اور سرکاری ملازمین ریلیف کے لئے حکومت کی طرف نظریں لگائے بیٹھے ہیں، کسی کو ملازمت سے برخواست کرنا ان کی کمر توڑ دینے کے مترادف ہے، غربت و فاقوں سے تنگ عوام پہلے ہی خودکشیوں پر مجبور ہے اسے مزید اذیت کا شکار نہ بنایا جائے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسٹیل مل کے ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے اور ملک کے دیگر سرکاری دفاتر سے ملازمین کی برخواستگی کے عمل پر پابندی لگائی جائے، کسی شخص سے روزگار چھین کر قومی آمدن میں اضافہ کی سوچ غیر دانشمندانہ اور زمینی تقاضوں سے متصادم ہے، اس پر نظرثانی کرنا ہوگی۔
خبر کا کوڈ : 867380
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش