?>?> پی آئی اے طیارہ حادثے میں پائلٹس اور ایئرٹریفک کنٹرولر ذمہ دار قرار - اسلام ٹائمز
0
Monday 22 Jun 2020 19:51

پی آئی اے طیارہ حادثے میں پائلٹس اور ایئرٹریفک کنٹرولر ذمہ دار قرار

پی آئی اے طیارہ حادثے میں پائلٹس اور ایئرٹریفک کنٹرولر ذمہ دار قرار
اسلام ٹائمز۔ پی آئی اے طیارے کی عبوری تحقیقاتی رپورٹ تیار ہوگئی جس میں طیارے کے کاک پٹ کریو اور ایئرٹریفک کنٹرولر کو حادثے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں حادثے کا شکار ہونے والے پی آئی اے طیارے کی ابتدائی رپورٹ ایوی ایشن ڈویژن کو موصول ہوگئی ہے جس کے بعد ایوی ایشن ڈویژن میں اعلی سطح کا اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری ایوی ایشن، ڈی جی سول ایوی ایشن سمیت دیگر حکام موجود تھے۔ اجلاس میں ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انوسٹی گیشن ٹیم کے سربراہ بھی موجود تھے جبکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایئر کموڈور عثمان غنی نے طیارہ حادثے کی رپورٹ اجلاس میں پیش کی اور ابتدائی تحقیقات پر بریفنگ دی۔ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ ائیر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ کے صدر عثمان غنی نے وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کے حوالے کردی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عبوری رپورٹ میں طیارے کے کاک پٹ کریو اور ایئرٹریفک کنٹرولر کو حادثے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے جبکہ پی آئی اے اور سی اے اے کو برابر کا ذمہ دار قرار دیا گیا، حادثات کی روک تھام میں پی آئی اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کا طریقہ کار بھی ناکام قرار دیا گیا ہے۔ ذرائع نے کہا کہ بلیک باکس ڈیٹا سے طیارہ میں کسی تکنیکی خرابی کے شواہد نہیں ملے، ابتدائی رپورٹ میں حادثہ انسانی غلطی سے پیش آنے کا شبہ ظاہر کیا گیا، حادثے کے شکار طیارے کے آلات اور سسٹمز کی جانچ کا کام ابھی جاری ہے۔ ابتدائی رپورٹ میں پائلٹس اور اے ٹی سی عملہ کی تواتر سے غلطیوں کی نشاندہی کی گئی، پہلی لینڈنگ پر جہاز 9 ہزار میٹر کے رن وے کے درمیان میں آکر ٹکرایا، پائلٹ دوبارہ اڑا کر لے گیا، پہلی لینڈنگ کے بعد پائلٹ کو جہاز اڑانا نہیں چاہیے تھا، دوبارہ ٹیک آف کے بعد جہاز کو 17 منٹ تک فضا میں اڑایا گیا، اس دوران انجن فیل ہوگئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ جہاز شروع سے ہی زائد رفتار اور اونچائی پر آرہا تھا، لینڈنگ پوزیشن میں آنے پر بھی جہاز کی اونچائی مقررہ ہائیٹ سے زیادہ تھی، پہلی ناکام لینڈنگ کے 12 گھنٹے بعد تک جہاز کے پرزے رن وے پر موجود رہے، ایئر سائٹ یونٹ نے اکھٹے نہیں کئے، قانون کے مطابق حادثہ کے بعد اے ٹی سی عملہ کو ریلیوو کر دینا چاہئے تھے لیکن شام سات بجے تک مکمل ڈیوٹی کروائی گئی۔ دوسری جانب فرانس سے آنے والی تحقیقاتی ٹیم نے بلیک باکس ڈی کوڈنگ کی رپورٹ مرتب کرکے پی آئی اے حکام کو دی تھی جبکہ پہلی مرتبہ کسی بھی طیارہ حادثے کی رپورٹ قومی اسمبلی میں منظرعام پر لائی جائے گی، طیارے حادثے کی ابتدائی رپورٹ آج وزیر اعظم کو پیش کی جائے گی، وفاقی وزیر ہوا بازی ان کو رپورٹ پیش کریں گے۔

وزیراعظم عمران خان سے وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے ملاقات کی اور کراچی طیارہ حادثہ کی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی، وزیر ہوابازی نے وزیراعظم کو کراچی طیارہ حادثہ کی وجوہات سے آگاہ کیا۔ واضح رہے پی آئی اے کے مسافر طیارہ 22 مئی کو کراچی ایئرپورٹ کے قریب آبادی پر گرگیا تھا، طیارے میں 99 افراد سوار تھے جن میں سے کیتان اور کیبن کویو کے 12 ملازمین سمیت 97 افراد جاں بحق ہوئے تھے جبکہ حادثہ میں معجزانہ طور پر 2 مسافر محفوظ رہے تھے، حادثہ میں محفوظ رہنے والوں میں سی ای او بنک آف پنجاب ظفر مسعود اور ایک مسافر زبیر شامل ہیں۔
خبر کا کوڈ : 870195
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش