0
Sunday 28 Jun 2020 10:24

اسپیکر قومی اسمبلی نے بلوچستان کی غیر فعال کمیٹی بحال کر دی

اسپیکر قومی اسمبلی نے بلوچستان کی غیر فعال کمیٹی بحال کر دی
اسلام ٹائمز۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کی جانب سے حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہونے کے تقریباً ہفتے بعد اور پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کو منانے میں حکومتی ٹیم کی ناکامی کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے آخر کار بلوچستان کے مسائل کے لیے تشکیل کردہ خصوصی غیر فعال کمیٹی کو فعال کر دیا۔ خیال رہے کہ بلوچستان سے متعلق مذکورہ کمیٹی کوئی 4 ماہ قبل تشکیل دی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق بی این پی کے رکنِ قومی اسمبلی حسن بلوچ نے بلوچستان سے متعلق خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں پارٹی کے سربراہ اختر مینگل کی سربراہی کی جو پارلیمنٹ ہاؤس می منعقد ہوا تھا اور اس کی سربراہی خود اسپیکر اسمبلی نے کی تھی۔

اجلاس کے بعد قومی اسمبلی سیکریٹریٹ سے جاری دستاویزات کے مطابق کمیٹی کے اراکین نے وزیر برائے بین الصوبائی تعاون ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی سربراہی میں 4 رکنی ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا تاکہ بلوچستان کے تمام مسائل سے متعلق جامع ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آر) تیار کیے جا سکیں۔ واضح رہے کہ اگست 2018ء میں تحریک انصاف اور بی این پی نے وفاق میں مخلوط حکومت بنانے کے لیے چھ نکاتی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ ان چھ نکات میں لاپتہ افراد کی بازیابی، نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد، وفاقی حکومت میں بلوچستان کے لیے چھ فیصد کوٹے پر عمل درآمد، پانی کی شدید قلت کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے افغان مہاجرین کی فوری وطن واپسی اور صوبے میں ڈیموں کی تعمیر شامل ہیں۔

بی این پی ایم اس وقت سے ہی معاہدے پر عمل درآمد کا مطالبہ کر رہی ہے۔ گزشتہ سال جون میں سردار اختر مینگل نے پہلی بار دھمکی دی تھی کہ اگر مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے تو وہ اتحاد چھوڑ دیں گے۔ بعد ازاں 17 جون کو بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے صدر سردار اختر مینگل نے پاکستان تحریک انصاف کے حکومت کے اتحاد سے اپنی جماعت کی علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔
خبر کا کوڈ : 871293
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش