1
Monday 29 Jun 2020 00:00

"چیف امریکی سنٹرل کمانڈ" کے بجائے خود "سعودی حکام" یمن پر مسلط کردہ جنگ کے بارے بات کریں، ابراہیم الدیلمی

ایران نے یمنی فریقوں کے درمیان مذاکرات کے کئی ایک منصوبے پیش کئے ہیں
"چیف امریکی سنٹرل کمانڈ" کے بجائے خود "سعودی حکام" یمن پر مسلط کردہ جنگ کے بارے بات کریں، ابراہیم الدیلمی
اسلام ٹائمز۔ ایران میں یمن کے سفیر ابراہیم الدیلمی نے یمن پر مسلط کردہ جنگ کے بارے چیف امریکی سنٹرل کمانڈ کی ہرزہ سرائی کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ یمن پر مسلط کردہ سعودی جنگ کے بارے چیف امریکی سنٹرل کمانڈ کے بجائے خود سعودی حکام کو بات کرنا چاہئے۔ انہوں نے عرب نیوز چینل المسیرہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے یمن پر مسلط کردہ سعودی جنگ کے حوالے سے ایرانی کردار کے بارے میں کہا کہ ایران نے یمن پر مسلط کردہ جنگ میں سیز فائر کے حوالے سے خود یمنی فریقوں کے درمیان بغیر کسی بیرونی مداخلت کے مذاکرات پر مبنی کئی ایک منصوبے پیش کئے ہیں۔ ابراہیم الدیلمی نے کہا کہ جارح سعودی عرب نے یمن پر مسلط کردہ جنگ کو مزید طول دینے کے لئے "یمن میں ایرانی مداخلت" کے نام سے ایک بہانہ گھڑ رکھا ہے۔

تہران میں صنعاء کے سفیر ابراہیم الدیلمی نے اپنے انٹرویو میں یمن کے اندر اقوام متحدہ کے نمائشی امدادی پروگرامز پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ (جنگ بندی کے) مذاکرات اور یمن میں انسانی امدادرسانی کے حوالے سے اقوام متحدہ کا اختیار پروگرام مینیجمنٹ کے حوالے سے بری طرح شکست کھا چکا ہے۔ انہوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ خطے کی تنظیمیں بھی جارح سعودی اتحاد کی طرف مائل ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ واضح رہے کہ قبل ازیں یمنی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد عبدالسلام نے بھی جارح سعودی عرب کی جانب سے کئے جانے والے جنگ بندی کے متعدد اعلانات اور مذاکرات کے کھوکھلے دعووں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ٹوئٹر پر جاری ہونے والے اپنے پیغام میں لکھا تھا کہ یمنی دشمن، جنگ بندی پر ریاض کے آمادہ ہونے کا راگ الاپتے نہیں تھکتے تاہم سعودی عرب کے بارے میں دی جانے والی اس خبر میں کوئی صداقت نہیں۔
خبر کا کوڈ : 871413
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش